پھر سے جمہوریت اور آئین کا ہوا قتل‘، یوپی-آسام میں کانگریس کارکنان کی موت پر راہل گاندھی کا سخت رد عمل

نئی دہلی:کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے اتر پردیش اور آسام میں مختلف احتجاجی مظاہروں کے دوران کانگریس کارکنان کی ہوئی موت پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے دونوں ریاستوں میں پیش آئے واقعات پر بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر کیے گئے اپنے پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’بی جے پی حکمراں ریاستوں میں پھر سے جمہوریت اور آئین کا قتل ہوا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے یوپی-آسام میں پیش آئے واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک بھر میں کانگریس پارٹی بابا صاحب اور آئین کی حمایت میں ستیاگرہ کر رہی ہے۔ اس دوران بہت زیادہ پولیس فورس کی وجہ سے گواہاٹی میں مردل اسلام اور لکھنؤ میں پربھات پانڈے، ہمارے کانگریس کارکنان کی موت انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

ان کے غمزدہ کنبوں کو اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ان کنبوں کو پورا انصاف ملنا چاہیے۔ کانگریس کے ببر شیر سچائی اور آئین کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

دراصل اتر پردیش اسمبلی کے گھیراؤ کے درمیان بدھ (18 دسمبر) کو کانگریس کے ایک کارکن کی لکھنؤ میں موت ہو گئی۔ پارٹی کارکن پربھات پانڈے مظاہرہ میں شامل ہونے کے لیے لکھنؤ پہنچے تھے۔ ان کی لاش کو سول اسپتال لے جایا گیا جہاں کچھ دیر بعد کانگریس کے ریاستی صدر اجئے رائے بھی پہنچے۔

اجئے رائے نے اس واقعہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم گاندھی جی کے نظریات کو ماننے والے لوگ ہیں۔ ہم پرامن طریقے سے اپنا احتجاج درج کرانے کی منشا سے اسمبلی کی طرف جا رہے تھے۔ لیکن ریاست کے وزیر اعلیٰ نے کانگریسیوں کی آواز دبانے کے مقصد سے ایک دن قبل ہی ریاست بھر کے کانگریس کارکنان کو گھر میں نظر بند کرا دیا۔ ساتھ ہی سبھی پر لکھنؤ نہیں آنے کا دباؤ بنایا جا رہا تھا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ مہلوک پربھات پانڈے کے کنبہ کو ایک کروڑ روپے کی معاشی مدد اور کنبہ کے ایک رکن کو سرکاری ملازمت دیں۔‘‘

دوسری طرف آسام کے گواہاٹی شہر میں منی پور تشدد اور اڈانی گروپ کے خلاف رشوت خوری کے الزامات سمیت مختلف ایشوز پر بدھ کے روز ایک احتجاجی مظاہرہ کے دوران مبینہ طور پر آنسو گیس کے گولہ سے نکلے دھوئیں نے ایک کانگریس کارکن کی جان لے لی۔ اس واقعہ میں کئی دیگر زخمی بھی بتائے جا رہے ہیں۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ آنسو گیس کی وجہ سے ہی پارٹی کارکن کی موت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : راہل کے دورے سے سامنے آنے والی ہاتھرس کی حقیقت چونکا دینے والی ہے: کانگریس
پولیس اور کانگریس کارکنان کے درمیان تصادم کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جس میں آسام کانگریس چیف بھوپین کمار بورا اور راجیہ سبھا کے سابق رکن ریپون بورا زمین پر گر گئے اور پھر انھیں حراست میں لے لیا گیا۔

کانگریس ترجمان دیوبرت بورا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس لاء سیل کے رکن مردل اسلام کو اس وقت گھٹن محسوس ہوئی جب آنسو گیس کا ایک گولا ان کے پاس گرا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’انھیں (ایم. اسلام) فوراً ایک پرائیویٹ اسپتال اور پھر گواہاٹی میڈیکل کالج و ہاسپیٹل (جی ایم سی ایچ) لے جایا گیا۔ وہاں انھیں مردہ قرار دے دیا گیا۔‘‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading