ناندیڑ:14ڈسمبر( ور ق تازہ نیوز) پربھنی میں آئین کے مجسمے کو تباہ کرنے والے اب آئین کے معمار باباصاحب امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے جھک گیا۔ اس سرپھرے نے آئین کے مجسمے کو تباہ کیاتھا جس کے بعد پربھنی میں دو دن تک تشدد پھوٹ پڑا۔ اس معاملے کا ملزم ناندیڑ کے وشنو پوری کے سرکاری اسپتال میں زیر علاج ہے۔ جمعرات کی رات تقریباً 10 بجے ہسپتال کے آئی سی یو روم میں پانچ سے سات بھیم سینک داخل ہوئے۔
اس موقع پر وہ بابا صاحب کی تصویر بھی لے کر آئے۔ ملزم نے بابا صاحب کی تصویر کے سامنے سجدہ کیا اور معافی مانگی۔ پربھنی معاملے کا ملزم پوار وشنو پوری کے سرکاری اسپتال میں زیر علاج ہے۔ چونکہ ملزم کا علاج جاری تھا، اس کی حفاظت کے لیے پربھنی کے پانچ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
ان میں سے پانچ سے سات لوگ جمعرات کی رات 10:50 پر اچانک آئی سی یو میں آئے۔ اس وقت ان کی ڈیوٹی پر موجود دو پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی گارڈز سے جھگڑا بھی ہوا۔ اس وقت بھیم سینک اپنے ساتھ بابا صاحب کی تصویر لے کر آئے تھے۔
ملزم نے کان پکڑ کر تصویر کے سامنے جھک کر معافی مانگی۔ اس قسم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اس معاملے میں ناندیڑ دیہی تھانہ میں جمعہ کی رات پانچ سے سات نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔