پاکستان کے سوشل میڈیا پر گذشتہ دو دن سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا وہ حالیہ ویڈیو پیغام زیر بحث ہے جس میں انھوں نے پاکستان اور اسامہ بن لادن کا حوالہ دیا تھا، اور ابھی اس بیان پر بحث جاری تھی کہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی پاکستان اور اسرائیل کے مندوبین اس معاملے پر آمنے سامنے نظر آئے۔
قطر پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے تناظر میں بلائے جانے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اسرائیل نے پاکستان کے بارے میں حقائق سے منافی ریمارکس دیے، جس کا مقصد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور اپنے غیر قانونی اقدامات کا جواز پیش کرنا تھا۔
اسی اجلاس میں شریک اسرائیل کے نمائندے نے عاصم افتخار احمد کی تقریر پر فوری ردعمل دیا اور انھیں یہ باور کروایا کہ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا کہ اسامہ بن لادن پاکستانی سر زمین پر مارے گئے تھے۔
قطر پر ہوئے اسی حملے کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔
اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں سلامتی کونسل نے دوحہ پر ہونے والے حالیہ حملے کی مذمت تو کی تاہم بیان میں اسرائیل کا ذکر نہیں کیا گیا۔ لیکن اس اجلاس میں شامل کئی ممالک بشمول پاکستان، قطر اور مصر کے نمائندوں نے نہ صرف اپنی تقاریر میں دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی بلکہ غزہ کی صورتحال اور اسرائیل کی جانب سے مبینہ نسل کشی پر بھی بات کی۔