”اسلاموفوبیا کی سیاست کو ہر حال میں شکست دی جائے؛
میڈیا کو مسلمانوں کو بدنام کرنے سے روکا جائے“
پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین ای ابوبکر نے نیوزی لینڈ کے کرسچرچ سٹی میں واقع دو مساجد النور مسجد اور لِنوُڈ مسجد میں جمعہ کے روز نمازیوں کے ہولناک قتل کی واردات پر گہرے غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ اس حادثے میں تقریباً 50/ افراد کے جاں بحق ہونے اور متعدد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ متاثرین جن میں بچے بھی شامل ہیں تمام کے تمام بے قصور اور نہتھے مسلم نمازی تھے، جو جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔
”متاثرین کے اہل خانہ اور دوست احباب کو لے کر ہمارا دل بہت ہی زیادہ غمگین ہے۔ ہم اللہ سے ان کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہیں۔ یہ حملہ مسلمانوں، اسلام اور مہاجرین کے تئیں نفرت کے جذبات کا نتیجہ تھا۔ مغربی ممالک میں اس قسم کے چھوٹے بڑے واقعات آئے دن ہونے لگے ہیں۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ نفرت کی یہ فضا یوروپی اور امریکی دائیں بازو کی سفید فام پارٹیوں اور لیڈران کے عروج کے ساتھ زور پکڑتی جا رہی ہے۔ اپنے مستقبل کو مضبوط کرنے کی کوشش میں سیاست داں اور میڈیا ان ممالک میں اقلیتوں، پناہ گزینوں اور مسلمانوں کے تئیں اشتعال انگیزی کا کام کر رہے ہیں۔ مسلم مخالف ماحول پر اب مغربی حکومتوں کا تسلط نہیں ہے۔ بلکہ ان ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی عام زندگی کے لیے یہ نفرت خطرہ بن گئی ہے۔ یہ حملہ آور متشدد جنونی افراد کی حد تک محدود نہیں ہوتے۔ نہ صرف متشدد نسل پرست جماعتیں، بلکہ مرکزی دھارے کی سیاسی پارٹیاں بھی متعدد ممالک میں ایسے جرائم کو فروغ دے رہی ہیں۔ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ پچاس ہزار سے بھی کم اورکل آبادی کے صرف ایک فیصد حصے پر مشتمل مختصر سی آبادی کو نیوزی لینڈ میں قومی تحفظ کے لیے خطرہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔“
ای ابوبکر نے یہ امید ظاہر کی کہ اس مخالف بدترین واردات کو دیکھتے ہوئے یوروپ اور امریکہ کے ہوشمند عوام اسلاموفوبیا کی سیاست اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی میڈیا کی کوششوں کو شکست دینے کی ترغیب ملے گی۔ انہوں نے اس خبر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ان وارداتوں کے متاثرین میں کچھ ہندوستانی اور ہندوستانی اصل کے لوگ بھی ہیں۔ انہوں نے وزارت خارجہ سے ان لوگوں کو ضروری امداد فراہم کرنے اور نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں رہنے والے ہندوستانی مسلمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔