ٹی ایم سی کے 58 باغی اراکین اسمبلی نے رتبرت بنرجی کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا، اسپیکر کو حمایتی خط سونپا

مغربی بنگال میں ٹی ایم سی میں پھوٹ پڑتی نظر آ رہی ہے۔ پارٹی سے نکالے گئے رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کو 58 باغی اراکین اسمبلی نے قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا ہے۔ بدھ (3 جون) اسمبلی اسپیکر رتھیندر بوس کو ایک حمایتی خط بھی سونپا۔ ہندی نیوز پورٹل ’دینک بھاسکر‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق رتبرت بنرجی، سندیپن ساہا اور دیگر باغی اراکین اسمبلی نے اسپیکر سے ملاقات کی اور 58 اراکین اسمبلی کے دستخطوں پر مشتمل خط جمع کرایا۔

باغی گروپ نے اپنے خط میں ممتا بنرجی کو اب بھی پارٹی کا صدر قرار دیا ہے۔ لیکن وہ ابھیشیک بنرجی کی قیادت اور قانون ساز پارٹی سے متعلق فیصلوں کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بنگال میں ٹی ایم سی کے 80 اراکین اسمبلی ہیں۔ نئے گروپ کو منظوری کے لیے 2 تہائی یعنی 54 اراکین اسمبلی کی ضرورت ہوگی۔ فی الحال انہیں 58 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ باغی گروپ نے رتبرت بنرجی کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر، جاوید خان، سندیپن ساہا اور سیولی ساہا کو ڈپٹی لیڈر بنایا ہے۔ جبکہ آخر الزماں کو چیف وہپ بنایا گیا ہے۔

ٹی ایم سی میں پھوٹ کے 3 امکانات ہیں۔ پہلا یہ کہ 2 تہائی اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہوں۔ ٹی ایم سی کے کل 80 اراکین اسمبلی میں سے 2 تہائی (54 اراکین اسمبلی) بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ لیں۔ ایسے میں دَلبدل قانون نافذ نہیں ہوگا۔ حالانکہ بی جے پی نے اس سے انکار کر دیا ہے۔ دوسرا یہ کہ ٹی ایم سی 2 گروپوں میں تقسیم ہو جائے۔ ایک گروپ پارٹی سے الگ ہو کر ٹی ایم سی کا دعویٰ کرے۔ اس لیے بھی 54 ارکین اسمبلی کی ضرورت ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بڑے گروپ کے دعوے پر الیکشن کمیشن فیصلہ لے گا۔ معاملہ عدالت میں بھی جا سکتا ہے۔ حالانکہ اس کے لیے 2 تہائی یعنی 28 میں سے 19 اراکین پارلیمنٹ کی بھی ضرورت ہوگی۔ تیسرا یہ کہ نیا گروپ الگ ہو کر اپنی نئی پارٹی بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے بھی 54 اراکین اسمبلی کو ایک ساتھ ٹی ایم سی چھوڑ کر نئی پارٹی میں شامل ہونا پڑے گا۔

واضح رہے کہ اگر کسی قومی یا ریاستی سطح کی پارٹی کے اراکین اسمبلی باغی ہو جائیں، تو وہ براہ راست پارٹی پر دعویٰ نہیں کر سکتے۔ یہ معاملہ بنیادی طور پر دسویں شیڈول میں دیے گئے دَلبدل قانون، پارٹی تنظیم کے آئین اور الیکشن کمیشن کے قوانین کے تحت طے ہوتا ہے۔ 91 ویں آئینی ترمیم (2003) کے بعد اگر کم از کم 2 تہائی اراکین اسمبلی اصل پارٹی سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو انہیں نااہلی سے چھوٹ مل سکتی ہے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن یہ جانچ کرتا ہے کہ پارٹی پر حقیقی کنٹرول کس کا ہوگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading