3 ماہ بعد آیت اللہ علی خامنہ ای سپردِ خاک ہوں گے ,الوداعی تقریب میں تقریباً 2 کروڑ لوگ شریک ہوں گے!

تہران:(ایجنسیز) ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی 28 فروری کو موت ہو گئی تھی۔ 3 ماہ سے بھی زائد عرصے کے بعد اب انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ایرانی حکومت نے خامنہ ای کے جنازے کے لیے 3 روزہ سرکاری سوگ اور عوامی سطح پر آخری رسومات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں ہونے والی ان آخری رسومات کو لے کر ملک کے کئی بڑے شہروں میں تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ تہران کے ڈپٹی میئر محمد امین توکلی زادہ نے اس پورے پروگرام کے انتظامات کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی میئر توکلی زادہ نے بتایا کہ خامنہ ای کا آخری الوداعی سفر ملک کے کئی بڑے شہروں سے گزرے گا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کا یہ سوگ جلوس راجدھانی تہران کے ساتھ ساتھ ملک کے بڑے مذہبی مراکز ’قم‘ اور ’مشہد‘ میں نکالا جائے گا۔ ان تینوں ہی شہروں میں عام لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی ریلیاں اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق خامنہ ای کی آخری رسومات کا سب سے بڑا پروگرام راجدھانی تہران میں منعقد ہوگا۔ صرف تہران میں ہی اہم تقریب مسلسل کم از کم 24 گھنٹے تک چلے گی۔ اس تاریخی اور انتہائی جذباتی موقع پر تہران میں سیکورٹی اور انتظامات کو برقرار رکھنا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔میونسپل افسران کا اندازہ ہے کہ اپنے مرحوم سپریم لیڈر کو الوداع کرنے کے لیے تہران میں تقریباً 2 کروڑ لوگ جمع ہو سکتے ہیں۔ اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنے اور ان کے ٹھہرنے کے لیے بڑے پیمانے پر لاجسٹکس اور سیکورٹی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading