ویڈیو… ’ہندو رکشا دَل‘ نے جے این یو حملے کی ذمہ داری لی، کہا ’ضرورت پڑی تو پھر ہوگی کارروائی‘

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اتوار کے روز طلبا و طالبات پر نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ حملہ کا معاملہ ٹھنڈا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ پورے ملک میں طلبا کا احتجاج جاری ہے اور سیاسی و سماجی ہستیوں کے ذریعہ لگاتار اس سلسلے میں بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس درمیان طلبا پر ہوئے حملے کی ذمہ داری ’ہندو رَکشا دَل‘ نے لے کر ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اس ہندو تنظیم نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ جے این یو میں اتوار کو ہوئی مار پیٹ انہی کے کارکنان نے کی ہے۔

ہندو رکشا دل کے قومی صدر پنکی چودھری نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ طلبا کی پٹائی کرنے والے ان کے کارکنان تھے اور آگے بھی وہ جے این یو میں ملک مخالف سرگرمیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ پنکی چودھری نے کہا کہ اگر ملک مخالف سرگرمیاں اس یونیورسٹی میں آگے بھی دیکھنے کو ملیں تو ایک بار پھر اسی طرح کی کارروائی ہوگی۔ حالانکہ اس سلسلے میں دہلی پولس نے ابھی کچھ بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

پنکی چودھری نے جو ویڈیو جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمارے ملک میں رہتے ہیں، ہمارے ملک کا کھاتے ہیں اور ہمارے ہی ملک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لیکن ملک مخالف سرگرمیاں چلا رہے ہیں جنھیں ہندو رکشا دل کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ ملک مخالف سرگرمیاں اگر ہمارے یہاں کوئی کرے گا تو اسے اسی طرح کا جواب دیا جائے گا جیسا کہ کل (5 جنوری کو) ہم نے شام کو دیا ہے۔ اس (جے این یو) حملے کی ساری ذمہ داری ہم لیتے ہیں۔ (وہ) ہمارے مذہب کے خلاف غلط بولتے ہیں اور ان لوگوں کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ کئی سالوں سے جے این یو کمیونسٹوں کا اڈہ ہے اور ایسے اڈے ہم لوگ برداشت نہیں کرتے۔‘‘

ویڈیو میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اپنے ملک کے لیے جان دینے کے لیے ہم ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ کل (5 جنوری) کی ذمہ داری ہندو رکشا دل لیتا ہے۔ اگر آگے بھی کسی نے ملک مخالف سرگرمیاں کرنے کی کوشش کی تو ہم آگے بھی یونیورسٹیوں میں ایسے حملے کرائیں گے۔ ہندو رکشا دل، بھوپیندر تومر، پنکی چودھری یہ ذمہ داری لیتا ہے کہ کل (اتوار کو) جو جے این یو میں واقعہ ہوا وہ سب ہمارے کارکنان تھے اور جو بھارت ماتا کے لیے ایسے کام نہیں کر سکتا اسے اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔جو مذہب کے خلاف بولے گا ہم وہ برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading