واجپئی حکومت میں وزیر مملکت رہے دلیپ رے ’کوئلہ گھوٹالہ کیس‘ میں مجرم قرار

نئی دہلی: سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی سربراہی میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت میں وزیر دلیپ رے کو کوئلہ گھوٹالے کے ایک معاملے میں دہلی کی ایک عدالت نے مجرم قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ جھارکھنڈ میں 1999 میں کوئلے کے بلاکس مختص کرنے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔

سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اپریل 2017 میں دلیپ رے کے علاوہ کوئلہ کی وزارت میں رہے اس وقت کے دو اعلیٰ عہدیداران پردیپ کمار بنرجی اور نتیانند گوتم کے علاوہ کیسٹران ٹیکلالوجیز لمٹیڈ اور اس کے ڈائریکٹر مہندر کمار اگروال کے خلاف دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور مجرمانہ خیانتِ کے تحت الزامات طے کیے گئے تھے۔
عدالت نے اس وقت کہا تھا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ شروع کرنے کے لئے کافی شواہد موجود ہیں۔ دلیپ رے اٹل بہاری حکومت میں کوئلے کے وزیر مملکت تھے جبکہ پردیپ کمار بنرجی کوئلے کی وزارت میں ایڈیشنل سکریٹری اور پروجیکٹ کے مشیر تھے۔ اس کے بعد ملزمان نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بے قصور ہیں، جس کے بعد یہ الزامات عائد کر دیئے گئے۔