ناندیڑ، 14 جولائی: ناندیڑ ضلع کے دھرم آباد پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آئے ایک ڈکیتی (جبری چوری) کے سنگین مقدمے کا پردہ فاش کرتے ہوئے پولیس نے ایک بالغ ملزم اور تین قانون سے متصادم کم عمر بچوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے 1 لاکھ 48 ہزار 500 روپے مالیت کا مسروقہ مال اور واردات میں استعمال ہونے والی دو موٹر سائیکلیں برآمد کر لی گئی ہیں۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن نے واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دھرم آباد پولیس کو فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری اور جرم کا سراغ لگانے کی ہدایت دی تھی۔پولیس کے مطابق 12 جولائی 2026 کو شام تقریباً 5 بجے دھانورا تا کرکھیلی روڈ پر چار نامعلوم افراد نے مدعی شیخ عمران بن شیخ محبوب (عمر 35 سال، پیشہ تجارت، ساکن تلنگی تاروڑا، منڈل مدکھیڑ، ضلع نرمل) کو روک کر لوہے کے راڈ سے حملہ کیا۔ ملزمان نے ان کے قبضے سے 18 ہزار روپے نقد اور 7 ہزار روپے مالیت کا سام سنگ موبائل فون زبردستی چھین لیا۔
مدعی کی شکایت پر دھرم آباد پولیس اسٹیشن میں جرم نمبر 171/2026 کے تحت بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی دفعات 309(6) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔تحقیقات کے دوران پولیس کی خصوصی ٹیم کو خفیہ اطلاع ملی کہ واردات میں ملوث افراد دھرم آباد کے آندھرا بس اسٹینڈ پر موجود ہیں۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے وہاں پہنچ کر چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران ایک ملزم کی شناخت نامدیو چوہان (26 سال، ساکن شنکر نگر، وسرنی، ضلع ناندیڑ) کے طور پر ہوئی، جبکہ دیگر تین قانون سے متصادم کم عمر بچے ہیں۔
پولیس نے تکنیکی شواہد اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر سخت تفتیش کی، جس دوران ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا۔اعتراف کے بعد پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 11 ہزار 500 روپے نقد، 7 ہزار روپے مالیت کا سام سنگ موبائل فون اور واردات میں استعمال ہونے والی دو موٹر سائیکلیں (مالیت 1 لاکھ 30 ہزار روپے) برآمد کر لیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 1 لاکھ 48 ہزار 500 روپے مالیت کا مال ضبط کیا گیا۔گرفتار بالغ ملزم کو عدالت میں پیش کرکے پولیس ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے، جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔یہ کارروائی ڈاکٹر نیلابھ روہن (پولیس سپرنٹنڈنٹ، ناندیڑ)، ارچنا پاٹل (ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، بھوکر) اور دشرتھ پاٹل (سب ڈویژنل پولیس آفیسر) کی رہنمائی میں پولیس انسپکٹر سداشیو بھڈیکر اور دھرم آباد پولیس کی خصوصی ٹیم نے انجام دی۔