ناروے کے شاہی خاندان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل‘: شہزادی کا بیٹا ریپ اور تشدد سمیت 38 مقدمات میں گرفتار

ناروے کی شہزادی میٹے ماریٹ کے بیٹے ماریئس بورگ ہوئیبی کو پولیس نے اتوار کے روز ایک خاتون پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ 29 سالہ ہوئیبی کے خلاف منگل کے روز اوسلو میں عدالتی کارروائی کا آغاز ہوگا۔

ماریئس بورگ ہوئیبی پر 38 سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں چار خواتین کے ریپ، تشدد، منشیات کی ترسیل اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق تازہ ترین واقعے میں ہوئیبی نے مبینہ طور پر چاقو لہرانے اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔ عدالت نے پولیس کی درخواست پر انھیں چار ہفتے کے لیے ریمانڈ پر بھیج دیا تاکہ دوبارہ جرم سے بچا جا سکے۔

اگست 2024 سے اب تک ناروے کی شہزادی کے بیٹے کو چار مرتبہ گرفتار کیا جا چُکا ہے۔ سنہ 2024 میں جب انھیں گرفتار کیا گیا تھا تو اُس وقت ان پر ایک خاتون پر حملے کا الزام لگا تھا جن کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔ ہوئیبی نے سنگین الزامات سے انکار کیا ہے لیکن کچھ معمولی جرائم کا اعتراف بھی کیا ہے۔
اس مقدمے کے ساتھ ساتھ ناروے کے عوام شہزادی میٹے ماریٹ کے ماضی کے ایک اور تنازعے پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ انھوں نے سنہ 2011 سے سنہ 2014 تک بدنام زمانہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ خط و کتابت بھی کی۔ شہزادی نے اس تعلق کو ’غلط فیصلہ‘ قرار دیا اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انھوں نے ایپسٹین کے فلوریڈا والے گھر میں چار راتیں قیام کیا۔ اگرچہ اس دوران ایپسٹین وہاں موجود نہیں تھے۔ اس معاملے پر ناروے کے وزیراعظم یوناس گاہر سٹورے نے بھی شہزادی کے فیصلے کو ’غلط اقدام‘ قرار دیا۔
شاہی محل نے ماریئس ہوئیبی کے مقدمے سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہوئیبی کو شاہی خاندان کا رکن نہیں سمجھا جاتا لیکن وہ ولی عہد کے سوتیلے بیٹے ہیں اس لیے اس معاملے سے براہِ راست شاہی خاندان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

شہزادی میٹے ماریٹ اس وقت پھیپھڑوں کی بیماری ’پلمونری فائبروسس‘ میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں نے پیوندکاری کی تیاری شروع کر دی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading