ریاض/فلوریڈا: ایمان کو جھنجھوڑ دینے والا ایک ایسا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو چھلنی کر دیا ہے۔ کعبۃ اللہ، جس کی سمت ہم اپنا سر سجدے میں جھکاتے ہیں، اس کے مقدس ’غلافِ کعبہ‘ (کسوہ) کے ٹکڑوں کو بدنامِ زمانہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کی 2017 کی فائلوں میں ذکر پایا گیا ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟
حالیہ انکشافات کے مطابق، 2017 میں غلافِ کعبہ کے وہ حصے، جنہیں خالص ریشم، سونے اور چاندی کے تاروں سے 150 سے زائد ماہر کاریگروں نے نہایت عقیدت سے تیار کیا تھا، انہیں غیر قانونی طور پر سعودی عرب سے فلوریڈا اسمگل کیے جانے کے ثبوت ملے ہیں۔
اہم حقائق جو آپ کو ہلا کر رکھ دیں گے:
* ناپاک گٹھ جوڑ: ای میلز کے تبادلے سے معلوم ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کاروباری شخصیت عجی الاحمدی اور عبداللہ الماری نامی شخص اس مذموم کارروائی میں ملوث تھے۔

* فضائی راستہ: یہ مقدس تبرکات برٹش ایئرویز کے ذریعے سعودی عرب سے سیدھے فلوریڈا (امریکہ) بھیجے گئے۔
* خلافِ روایت اقدام: اگرچہ قدیم روایت کے مطابق غلافِ کعبہ کے پرانے ٹکڑے معزز شخصیات یا عجائب گھروں کو بطورِ ہدیہ دیے جاتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ ’ایپسٹین‘ جیسے غلیظ نیٹ ورک سے جڑا ہونا اس کی حرمت پر سنگین حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔

امتِ مسلمہ کی غیرت کو للکارا گیا!
غلافِ کعبہ محض ایک کپڑا نہیں، بلکہ اللہ کے گھر کی عظمت کی علامت ہے۔ سوشل میڈیا پر اس خبر کے وائرل ہوتے ہی مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ مقدس دھاگے جن پر قرآنی آیات منقش ہوتی ہیں، وہ ایسے لوگوں کے پاس کیسے پہنچے جن کا دامن بدترین جرائم سے داغدار ہے؟
> "یہ صرف غلاف کی منتقلی نہیں، بلکہ شعائرِ اللہ کی توہین ہے۔”
جیفری ایپسٹین: ایک بدنامِ زمانہ مجرم کا سیاہ کردار
اس خبر کا سب سے لرزہ خیز پہلو یہ ہے کہ مقدس غلافِ کعبہ کے ٹکڑے جس شخص کے نیٹ ورک سے جڑے پائے گئے ہیں، وہ اخلاقی پستی کی آخری حدوں کو چھو چکا تھا۔ جیفری ایپسٹین محض ایک امریکی فنانسر نہیں تھا، بلکہ وہ انسانیت کے ماتھے پر ایک کلنک تھا۔
ایپسٹین کے کردار کے چند بھیانک پہلو:
جنسی جرائم کا سرغنہ: ایپسٹین ایک سزا یافتہ جنسی مجرم اور انسانی اسمگلر تھا۔ اس پر نابالغ لڑکیوں کو ورغلانے اور انہیں جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے سنگین ترین الزامات تھے۔
خوفناک نیٹ ورک: اس نے فلوریڈا، نیویارک اور اپنے نجی جزیرے (جسے ‘گناہوں کا جزیرہ’ کہا جاتا تھا) پر ایک ایسا جال بچھایا ہوا تھا جہاں وہ کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور عصمت دری میں ملوث تھا۔
سیاہ رسائی: وہ اپنے مال اور اثر و رسوخ کے بل بوتے پر دنیا کی طاقتور ترین شخصیات، سیاستدانوں اور شاہی خاندانوں کے ساتھ تعلقات رکھتا تھا، جنہیں وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔
عبرت ناک انجام: 2019 میں جنسی اسمگلنگ کے وفاقی الزامات کے تحت گرفتاری کے بعد، اس نے جیل کی کوٹھڑی میں خودکشی کر لی، لیکن اس کی چھوڑی ہوئی ‘فائلیں’ آج بھی دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں کو ہلا رہی ہیں۔

ایمان پر حملہ!
مسلمانوں کے لیے دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ غلافِ کعبہ، جسے دنیا بھر کے مسلمان اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتے ہیں، اس کی مبینہ منتقلی ایسے شخص کے اڈے (فلوریڈا) پر ہوئی جو بدکاری اور گھناؤنے جرائم کا مرکز تھا۔ شعائرِ اسلام کے تبرکات کا ایک ایسے شخص کی فائلوں میں ذکر ہونا جس کا دامن ہزاروں معصوموں کی زندگی برباد کرنے سے داغدار ہے، امتِ مسلمہ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔