مہنگائی کا بحران صرف جنگ کا ہی نتیجہ نہیں: اتل لونڈھے

مہنگائی کا بحران صرف جنگ کا ہی نتیجہ نہیں بلکہ یہ مودی حکومت کی 12 سالہ غلط معاشی اور خارجہ پالیسیوں کا انجام ہے: اتل لونڈھے

روپیہ دنیا کی سب سے زیادہ گرتی ہوئی کرنسی بن چکا ہے، اب کیا روپے کی گراوٹ سے وزیر اعظم کی عزت متاثر نہیں ہوتی؟

نیٹ پیپر لیک معاملے میں 4 طلبہ کی خودکشی دراصل سرکاری قتل، مرکزی وزیر تعلیم اور این ٹی اے ڈائریکٹر جنرل کے خلاف کارروائی کی جائے

ممبئی: ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مہنگائی کی نئی لہر نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے کے سبب خوردنی تیل، دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام کو کفایت شعاری اور قربانی کا مشورہ دیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہا ہے کہ موجودہ مہنگائی صرف ایران جنگ کا ہی نتیجہ نہیں بلکہ یہ مودی حکومت کی گزشتہ 12 برسوں کی ناکام معاشی اور خارجہ پالیسیوں کا براہِ راست اثر ہے۔

تلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد 144 مہینوں میں سے 140 مہینے ہندوستان کا امپورٹ-ایکسپورٹ بیلنس منفی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کی تجارت 112 بلین ڈالر منفی ہو چکی ہے، کیونکہ ہندوستان چین سے زیادہ درآمد اور کم برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی تجارت پہلے مثبت تھی، لیکن ایپسٹین فائل، اڈانی کو دی جانے والی رعایتوں اور امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدوں کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان ہندوستانی کسانوں کو ہوگا۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ اب ہندوستان امریکہ کے ساتھ 500 بلین ڈالر کی تجارت کا ہدف مقرر کر رہا ہے، لیکن یہ بھی منفی توازن کی طرف جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔ 2014 میں جب مودی حکومت اقتدار میں آئی تھی تو ایک ڈالر کی قیمت 58 روپے تھی، جو اب بڑھ کر 95 روپے ہو چکی ہے اور جلد ہی 100 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یو پی اے حکومت کے دور میں جب خام تیل کی قیمت 147 ڈالر فی بیرل تھی، تب پٹرول 72 روپے، ڈیزل 58 روپے اور گیس سلنڈر 412 روپے میں دستیاب تھا، لیکن آج خام تیل کی قیمت 110 ڈالر ہونے کے باوجود پٹرول 100 روپے سے اوپر اور گیس سلنڈر ایک ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد 35 روپے فی لیٹر پٹرول دینے کا وعدہ کیا تھا، اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار شیئر مارکیٹ سے سرمایہ نکال رہے ہیں، جبکہ ’’میک اِن انڈیا‘‘، ’’اسمارٹ سٹی‘‘ اور مینوفیکچرنگ جیسے بڑے منصوبے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کی معاشی صورتحال واقعی بہتر ہے تو پھر پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں کیوں لگ رہی ہیں؟

اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ روس اور ایران ہندوستان کو روپے میں تیل فراہم کر رہے تھے، لیکن امریکہ کے دباؤ کے سبب اب ہندوستان وہ تیل نہیں خرید پا رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روس سے سستا تیل خریدنے کا فائدہ صرف مکیش امبانی کی ریلائنس اور نایرا کمپنی کو ہوا، عوام کو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے کے دور میں ایکسائز ڈیوٹی صرف 3 روپے تھی، جسے بڑھا کر 33 روپے تک پہنچایا گیا اور اس کے ذریعے لاکھوں کروڑ روپے کمائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ جب خام تیل کی قیمتیں کم تھیں تب بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم نہیں کی گئیں۔ 2015 میں حکومت نے ایندھن کی مقامی پیداوار بڑھا کر درآمدات کم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن وہ بھی ناکام ثابت ہوا اور اب ہندوستان کی تیل درآمدات 89 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا جس میں انہوں نے پٹرول 15 روپے فی لیٹر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

نیٹ پیپر لیک معاملے پر بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ اس اسکینڈل نے ملک کے 23 لاکھ طلبہ کے خواب چکناچور کر دیے ہیں، جبکہ 4 طلبہ نے خودکشی کر لی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خودکشیاں نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے کئے گیے قتل ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے تھا، لیکن اب تک نہ ان کے خلاف اور نہ ہی این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کی کارروائی محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہے جبکہ اصل ذمہ دار آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ اتل لونڈھے نے یاد دلایا کہ 2014 میں بھی نیٹ پیپر لیک ہوا تھا، اس وقت بھی سی بی آئی جانچ ہوئی تھی، لیکن اس کا نتیجہ آج تک سامنے نہیں آیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading