مہایوتی حکومت غیر قانونی اور غیر اخلاقی دھندوں کا گڑھ
کھرات معاملہ اور وزیر جھروال کے ویڈیو نے حکومت کی سچائی کو بے نقاب کر دیا: ہرش وردھن سپکال
چاکنکر کے بعد بھی خاموشی کیوں؟ سنیترہ پوار فوری کارروائی کریں اور دونوں کو تمام عہدوں سے ہٹائیں
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے مہایوتی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈھونگی بابا اشوک کھرات کے معاملے اور ریاستی وزیر نرہری جھروال کے مبینہ قابلِ اعتراض ویڈیو نے حکومت کی ساکھ کو بری طرح مجروح کر دیا ہے اور اس کے اخلاقی دیوالیہ پن کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور فوری طور پر نرہری جھروال کو وزارت سے برطرف کرے۔
سپکال نے کہا کہ ایک ذمہ دار عوامی نمائندے اور وزیر کی جانب سے اس طرح کے غیر اخلاقی اور قابلِ اعتراض طرزِ عمل کا سامنے آنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک فرد کی حد تک محدود نہیں بلکہ عوامی زندگی میں اخلاقیات کے زوال کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے لیڈر سے کم از کم بنیادی اخلاقی معیار کی توقع کی جاتی ہے، مگر جھروال کے ویڈیو نے ان تمام توقعات کو پامال کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی وزیر کے محکمے میں دن دہاڑے رشوت لیتے ہوئے ملازمین کی گرفتاری کا معاملہ بھی حال ہی میں سامنے آیا تھا، مگر کارروائی نچلے درجے کے اہلکاروں تک محدود رکھی گئی۔ سپکال نے الزام عائد کیا کہ جھروال سادگی کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔
ہرش وردھن سپکال نے ڈھونگی بابا اشوک کھرات کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں درجنوں وزراء اور اعلیٰ افسران کے ملوث ہونے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ خواتین کے استحصال کے الزامات سے جڑے اس معاملے میں ریاستی خواتین کمیشن کی سابق صدر روپالی چاکنکر کے قریبی روابط بھی زیر بحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ چاکنکر کے استعفے کے باوجود وہ اب بھی پارٹی کے عہدے پر برقرار ہیں، جو سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سپکال نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی صدر اور ریاست کی نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنے سنگین معاملات کے باوجود ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سنیترہ پوار فوری طور پر مداخلت کریں اور روپالی چاکنکر اور نرہری جھروال دونوں کو تمام عہدوں سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے معاملات پر سخت اور فوری کارروائی نہیں کی گئی تو عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور یہ حکومت کے لیے مزید بدنامی کا سبب بنے گا۔