( ڈاکٹر شیخ عتیق الرحمن، بحوالہ نیوز 18 لوک مت) مہاراشٹر میں ان دونوں جہاں کورونا وائرس کا قہر برپا ہے تو دوسری طرف وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے عہدے پر سیاسی بحران نقطہ عروج پر ہے. ادھو ٹھاکرے مہا وکاس آگھا ڑی حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز کئے گئے. یادرے کے ادھو ٹھاکرے اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے رکن نہیں ہے جس کی وجہ سے انکا عہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے.
کسی بھی ایوان کے بغیر رکنیت کے( شپتھ ودھی کی تاریخ سے) جھ ماہ تک عہدے پر فائز رہا جا سکتا ہے اور ادھو ٹھاکرے کی یہ معیاد 28مئی کو مکمل ہو رہی ہے. اس لئے ریاستی مجلسِ کابینہ نے رکنیت خصوصی طور پر عطاء کئے جانے پر گذارشات گورنر کو ارسال کر دیا ہے لیکن گورنر کی جانب سے ابھی تک کوئی گرین سگنل نہیں ملنے کی وجہ سے ادھو ٹھاکرے کا عہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے. کیونکہ کورونا وائرس بحران کی وجہ سے ودھان پریشد کے 9 ارکان کے لئے ہو نے والے انتخابات منسوخ کر دیئے گئے.
جس کی بنا پر وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی رکنیت تاخیر کا شکار ہو گئی ہے. لیکن دوسری جانب مہا وکاس آگھا ڑی کے قائدین نے وزیراعلیٰ کے عہدے پر ادھو ٹھاکرے کو ہی بر قرار رکھنے کے لئے اپنی سیاسی سر گرمیاں تیز کر دی ہیں.
بتا جاتا ہے کہ مہا وکاس آگھا ڑی نے اپنا B پلان تیار کر لیا ہے جس میں اس بات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ اگر وزیراعلیٰ کے عہدے سے ادھو ٹھاکرے کو استعفیٰ دینا پڑے تو مہا وکاس آگھاڑی اس مرحلے میں تینوں سیاسی پارٹیوں کے ساتھ تائد لے کر دوبارہ گورنر سے ادھو ٹھاکرے کو وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز کرنے کے لئے سفارش کرے گی جس کی بنا پر ادھو ٹھاکرے کو مزید چھ ماہ رکنیت ثابت کرنے کے لئے فراہم ہوں گے. بہر کیف گورنر کی جانب سے ابھی تک کوئی بھی احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں جس سے ریاست میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے.