کیا ماب لنچنگ کی شیطانی وبا پھر مہاراشٹر میں لوٹ رہی ہے ؟ یہ سوال گزشتہ پندرہ دنوں کے اندر ماب لنچنگ کے دو المناک واقعات کی بنا پر اٹھ رہا ہے ۔ ویسے سچ تو یہی ہے کہ ماب لنچنگ کی شروعات مہاراشٹر سے ہی ہوئی تھی ۔ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے اور ’ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ‘ کا نعرہ لگانے کے فوراً ہی بعد پونہ میں محسن شیخ نامی ایک نوجوان انجنیئر کو ’ ہندو سینا ‘ کے شرپسندوں نے پیٹ پیٹ کر جان سے مار دیا تھا ، محسن شیخ عشاء کی نماز پڑھ کر واپس ہو رہا تھا ، تب اُس پر حملہ کیا گیا تھا ۔
محسن شیخ کی جان گئی ، اس کے اہلِ خانہ شدید صدمہ سے دوچار ہوئے ، لیکن محسن شیخ ماب لنچنگ کے تمام ملزمین بری ہو چکے ہیں ۔ محسن شیخ کی ماب لنچنگ کے بعد بھی مہاراشٹر میں لنچنگ کے واقعات ہوئے ہیں ، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ، جتنے بڑے پیمانے پر اترپردیش ، مدھیہ پردیش اور راجستھان وغیرہ کے علاقوں میں ہوئے تھے ۔ اگر ماب لنچنگ کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ۹۰ فیصد واقعات گائے پر اٹھے تنازعے کو لے کر ہوئے ہیں ، اور مارے جانے والوں کی اکثریت مسلم ہے ، اس کے بعد دلت آتے ہیں ۔
جیسا کہ کہا گیا ہے ایسے واقعات مہاراشٹر میں بھی پیش آئے ہیں ، لیکن دوسری ریاستوں کے مقابلے کم تعداد میں ، لیکن تشویش ناک امر یہ ہے کہ دو ہفتوں کے اندر مہاراشٹر میں گائے کے نام پر ماب لنچنگ کے دو واقعات پیش آئے ہیں ، ان میں دو نوجوان اپنی جان سے گئے ہیں ۔ دونوں ہی وارداتیں ناسک کی ہیں ، دونوں ہی میں مارے جانے والے نوجوان ممبئی اور تھانہ کے تھے ۔ ایک واقعہ ۱۳ – ۱۴ ،جون کے درمیان کا ہے ، اور دوسرا واقعہ ۲۴ ، جون کا ہے ۔ پہلے واقعے میں بجرنگ دل کے بے قابو انتہا پسند عناصر نے ، گئو رکشھا کے نام پر ایک ۲۳ سالہ نوجوان لقمان انصاری کی پیٹ پیٹ کر جان لے لی تھی ، اور اس کی لاش ایک گھاٹی میں پھینک دی تھی ۔
یہ نوجوان تھانہ ضلع میں واقع پڑگھا کا رہنے والا تھا ۔ اس کے ساتھ دو نوجوان اور تھے جو کسی طرح اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے تھے ۔ یہ ایک ٹیمپو کے ذریعے جانور لا رہے تھے ، لیکن ان کی گاڑی روکی گئی اور پہلے ان سے روپیے مانگے گئے ، جب انھوں نے کہا کہ ان کے پاس روپیے نہیں ہیں تو ان کی پِٹائی شروع کر دی گئی ۔
جو اطلاعات ملی ہیں اُن کے مطابق لوہے کی سلاخوں اور لاٹھی ڈنڈوں سے انہیں مارا پیٹا گیا ، شرپسند عناصر لقمان انصاری کو مارتے رہے ، جب وہ بے ہوش ہو گیا تب اس پر لاٹھی ڈنڈے برسانے بند کیے گئے ۔ ایک اطلاع کے مطابق زخمی لقمان انصاری کو مردہ سمجھ کر پہاڑی گھاٹی میں پھینک دیا گیا تھا ، حالانکہ بجرنگ دل کے جو شرپسند گرفتار کیے گئے ہیں ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ خود گھاٹی میں جا گرا تھا ، جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی ، لیکن پولیس ملزمین کی یہ بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ اور یہ دوسرا واقعہ بھی ناسک کے ہی علاقے میں پیش آیا ہے ۔ تازہ معاملے میں کرلا علاقہ کے دو نوجوان اپنی گاڑی میں گوشت لا رہے تھے ، انہیں بجرنگ دل کے لوگوں نے پکڑا اور بغیر کسی پوچھ تاچھ کے ان کی پٹائی شروع کر دی ۔
بےتحاشہ پٹائی کے سبب دونوں نوجوان عفان عبدالمجید اور ناصر غلام حسین شدید زخمی ہوگئے ، عفان نے اسپتال میں دم توڑ دیا اور ناصر کی حالت تشویش ناک بنی ہوئی ہے ۔ یہ دونوں ہی گوشت کے بیوپاری تھے ، ان کا گوشت کے غیرقانونی کاروبار سے کچھ لینا دینا نہیں تھا ۔ لیکن جس طرح پہلو خان ، رکبر خان ، تبریز انصاری اور محمد اخلاق کو گائے کے بہانے جان سے مار دیا گیا تھا اسی طرح ان دونوں کو بھی گئو کشی اور گئو ماتا کا مجرم مان کر پیٹا گیا ، اور ایک کی جان لے لی گئی ۔ یہ دونوں ہی وارداتیں مہاراشٹر کے لیے تشویش ناک ہیں ، کیونکہ یہ ریاست پہلے ہی سے بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے ۔
کولہاپور سے لے کر اورنگ آباد تک کئی اضلاع میں پہلے ہی سے اورنگ زیب اور ٹیپو سلطان کے نام پر فرقہ وارانہ تناؤ پھیلانے کی کوششیں جاری ہیں ۔ جگہ جگہ ’ سکل ہندو سماج ‘ کی ریلیوں سے کشیدگی کا ماحول ہے ، اور حالات کو مزید کشیدہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ ماب لنچنگ کی یہ وارداتیں فرقہ وارانہ کشیدگی میں بھی اور مختلف فرقوں کے درمیان پہلے سے حائل دراڑ کو وسیع کرنے میں بھی گھناؤنا کردار ادا کر سکتی ہیں ۔
عیدالاضحی کے موقعے پر یہ کشیدگی حالات کو مزید ابتر کر سکتی ہے ، کیونکہ یہ تہوار ہی قربانی کا ہے۔ شرپسند قربانی کے فریضے میں روکاؤٹ ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں ، اس سے تناؤ پھیل سکتا ہے ۔ کرلا کے نوجوانوں کی ماب لنچنگ کی واردات سے کرلا کے علاقے میں غم و غصے کی لہر تھی ، لیکن لوگوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا ۔ اورایسے موقعہ پر صبر ضروری بھی ہے ، کوئی ناخوشگوار بات سارے شہر بلکہ ساری ریاست کے حالات کو کشیدہ کر سکتی ہے ، اور تشدد پھوٹ سکتا ہے ، جو سب کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے ۔ اس تعلق سے ’ فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس ‘ نے ،جو ریاست کی تمام بڑی جماعتوں اور اہم شخصیات پر مشتمل افراد کا فیڈریشن ہے ہجومی تشدد کے دونوں واقعات پر انتہائی غم وغصہ کا اظہار کیا ہے ۔ اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس سے ای میل کے ذریعے خط بھیج کرمطالبہ کیاہے کہ وہ سماج دشمن عناصر کو سختی کے ساتھ روکیں ۔
یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں واقعات کے خاطیوں کو گرفتار کیا جائے ، فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلاکر خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ، اور مرنے والوں کے ورثا کو 25 ، 25 لاکھ کا معاوضہ اور سرکاری نوکری دی جائے ۔ حکومت کو اِن مطالبات پر توجہ دینی چاہیے ۔ اور پولیس انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ماب لنچنگ کے واقعات پر قابو پانے کے لیے کوئی منظم لائحۂ عمل بنائے اور جو قصوروار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔ بجرنگ دل کے شرپسندیوں پر روک لگانا ضروری ہے ، اس کے لیے خصوصی انٹظام کیا جانا چاہیے ۔ عید قرباں پر قربانی اور نمازیں سکون سے ادا کی جا سکیں اس کے لیے پولیس کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔
امن و امان کی برقراری کے لیے ممبئی کے پولیس کمشنر وویک پھنسالکر نے خصوصی اپیل کی ہے ، اس اپیل پر سب کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ سب ہی کو چاہیے کہ ، عیدالاضحیٰ کے تہوار کو خوشگوار اور پرامن بنانے کے لیے صبر اور ضبط سے کام لیں ، ہر طرح کی افواہ سے بچیں ۔