مہاراشٹر اسمبلی الیکشن:اپیل برائے علمائِ کرام و ائمہ مساجد

علمائِ کرام اور ائمہ مساجد سے گزارش ہے کہ 21؍اکتوبر2019ء؁ مہاراشٹر میں اسمبلی الیکشن ہونے جارہے ہیں۔ ان مناسبت سے ملت کی رہنمائی کے لیے اس خطبہ کو نماز جمعہ سے پہلے پڑھ کر سنانے کا اہتمام کرنے کی اپیل ہے۔ 
منجانب :عبدالمجیب                        
(سکریٹری شعبہ قیام عدل و قسط، جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر)   
…………………………………………………………………………..
الحمدللّٰہ رب العالمین. والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین، محمد ن الامین. وعلی آلہ و صحبہ اجمعین
اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمان الرحیم
ان اللہ لایغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (الرعد ۱۳)
وقال تعالیٰ ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مومنین (آل عمران)
وقال تعالی
واعدو لھم ما استطعتم من قوۃ  ومن رباط الخیل ترھبون بہ عدو اللہ و عدوکم وآخرین من دونھم
 لا تعلمو نھم اللہ یعلمھم (الانفال)
 
وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم
خیر الناس من ینفع الناس
 
محترم بھائیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
آج میں آپ سے ایک اہم موضوع اسمبلی الیکشن 2019  اور ہماری ذمہ داری کے عنوان پر اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں۔
الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے۔21 نومبر2019ء؁ کو ہماری ریاست مہاراشٹرا میں اسمبلی الیکشن ہیں۔ مختلف پارٹیاں میدان میں اپنی پوری قوت و طاقت کے ساتھ موجود ہیں۔ ریاست کے مختلف طبقات، لسانی اور مذہبی گروہ اس الیکشن کے ذریعہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کمر بستہ ہیں مگر افسوس مسلمانوں میں اس تعلق سے کوئی بیداری اور شعور نظر نہیں آرہا ہے۔ ملکی صوبائی اور مقامی سطح پر ملت کی نہ تو کوئی منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی کوئی موثر لائحہ عمل۔
عام مسلمان حیران اور شش و پنج میں مبتلا ہے کہ وہ کیا کرے۔مسلمانوں کی اعلی قیادت بھی عجیب طرح کی انتشار فکری میں مبتلا ہے۔ ملت پر امید نگاہوں سے اپنی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے مگر قیادت رہنمائی کرنے سے قاصر ہے۔
محترم بزرگو اور دوستو  ! 
موجودہ جمہوری نظام میں ووٹ اور الیکشن کی اہمیت کو جاننا بہت ضروری ہے۔ جمہوری نظام میں ایک ایک ووٹ کی اہمیت ہے، اس میں بندوں کو تولنے کے بجاے گِنا جاتا ہے۔ جو قوم گنتی میں زیادہ ہوگی وہ جس کو چاہے گی وہ حاکم ہوگا۔ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہیے اور اپنے حق راے دہی کو موثر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
ووٹ دینے کے تعلق سے ہمارا رویہ بہت تکلیف دہ ہے۔ الیکشن کے دن ہماری بڑی تعداد ووٹ دینے کے لیے پولنگ بوتھوں پہ جانے کے بجاے گھر میں چپ چاپ بیٹھی رہنا پسند کرتی ہے۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ہمارا ایک ووٹ کیا وقعت رکھتا ہے یا ہمارے ایک ووٹ دینے یا نہ دینے سے کیا فرق پڑنے والا ہے۔ اس طرح کی سوچ بظاہر تو انفرادی ہوتی ہے مگر اسی طرح کی انفرادی آراء جمع ہوتے ہوتے قومی و اجتماعی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ نتیجتاً ہمارا پولنگ تناسب نا قابل یقین حد تک تک کم ہو جاتا ہے۔ 
آنے والا الیکشن ملک اور ریاست کے لیے بہت اہم ہے، ریاست میں ایسی سیاسی قوتیں سرگرم عمل ہیں اور دن بہ دن مضبوط ہوتی جا رہی ہیں جو اس ملک کے جمہوری تانے بانے کو بکھیر دینا چاہتی ہے۔ جن کا مقصد مسلمانوں کو سیاسی اعتبار سے بالکل بے وزن کر دینا ہے۔ جو ملک میں ہندواتو کی حکمرانی کے ذریعہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتی ہیں جہاں نہ ان کے حقوق ہوں اور نہ اختیارات۔تین طلاق بل کی منظوری سے ان کے عزائم واضح ہوچکے ہیں، اگر انھیں مزید قوت ملی تو یہ یکساں سول کوڈ لائیں گے اور شریعت پر جو تھوڑا بہت عمل کے مواقع ہمیں حاصل ہیں اسے بھی ختم کردیں گے۔
این آر سی کے نفاذ کے تعلق سے بھی حکومت کے عزائم بہت واضح ہیں وہ اس کے نفاذ کے ذریعہ بھارتی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا چاہتی ہے۔ انہیں ان کے جمہوری حقوق سے محروم کرکے ان کے حق راے دہی کو بھی ختم کرنا چاہتی ہے۔ 
پچھلے چند سال بھارتی مسلمانوں کے حق میں بہت پر آشوب ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے دستوری حقوق چھیننے کی منظم حکومتی کوششیں ہیں۔ ان کی تنظیمیں اور ادارے حکومتی ایجنسیوں کی زد پہ ہیں۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کو بلا کسی جرم کے جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کا لامتناہی سلسلہ ہے۔ معاشی اعتبار سے ایسی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں جس سے مسلم معیشت کی کمر توڑ دی جائے۔ مسلم پرسنل لا میں مداخلت اور اسے بتدریج یکساں سول کوڈ میں تبدیل کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ پورے ملک میں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو سے کھلواڑ عام ہے۔ سیاسی اعتبار سے بھی مسلمانوں کو بے اثربنانے کی منظم کوششیں ہیں ملکی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیاں مسلمانوں سے خالی ہوتی جارہی ہیں۔ ان حالات میں 2019ء کا اسمبلی الیکشن ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ہم نے اس الیکشن کے تعلق سے انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے مناسب پالیسیاں نہ بنائیں تو مستقبل کا ہندوستان، بھارتی مسلمانوں کے لیے مزید ابتر اور پر خطر ثابت ہو گا۔
محترم بھائیو!
میں نے ابھی جن آیات کی تلاوت کی ہیں ان میں سے ایک آیت ان اللہ لایغیرما بقوم کا ترجمہ ہے۔ 
اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اندرون کو نہ بدلے۔
اسی طرح دوسری آیت  ولا تھنوا ولاتحزنوا میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نہ ڈرو نہ غم زدہ ہو تم ہی سربلند ہوگے اگر تم مومن ہو۔
تیسری آیت  واعد وا لھم ما استطعتم من قوۃ میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ دشمنوں کے مقابلے میں ہر ممکن قوت اور طاقت اکٹھا کرو۔
اسی طرح پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو سب سے بہتر آدمی کہا ہے جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے ۔
محترم بھائیو  !    الیکشن کے سلسلے میں بھی ہمیں ان آیات کے ذریعہ جو رہنمائی ملتی ہے وہ درج ذیل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حالات کو اسی وقت تبدیل کرے گا جب ہم خود اس کو بدلنے کی کوشش کریں اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو ہمارے حالات میں کسی طرح کی مثبت تبدیلی کی امید بیکار ہے۔جب ہم خود اپنی حالت کو بدلنے کے لیے سعی و جہد کریں گے تو اللہ کی تائید اور نصرت بھی ہمیں حاصل ہوگی، خود اپنے حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کرنا اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔ آپ اگر محنت اور کوشش کریں گے تب ہی اللہ کی مدد اور نصرت آپ کے ساتھ ہوگی۔ 
حالات کتنے بھی نا مساعد اور خراب ہوں ہم دولت ایمان سے مالا مال ہوں، ہمیں کم ہمتی، خوف زدگی اور مایوسی سے دور رہنا ہوگا اللہ پر مکمل ایمان اور مخلصانہ عمل کے نتیجے میں سربلندی ضرور ہمارا مقدر ہوگی۔
بس ہمیں اپنے دین کی سچائی اور اللہ کی ذات پر ایمان ویقین کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس درجے میں ہے۔ کہیں ایساتو نہیں ہے کہ ہم جس دین کے نام لیوا ہیں عملاً ہم نے اسے اپنی زندگیوں سے نکال دیا ہے۔ اللہ اور رسولؐ کا نام ہماری زبانوں پہ بطور زیب داستاں تو نہیں ہے؟
دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں اپنی استطاعت بھر قوت اور طاقت جمع کرنا ہوگا تاکہ ہمارے حقوق کی حفاظت ہو اور دشمنوں کے دلوں میں ہمارا رعب قائم رہے۔
آج ہم نے ایمان، توکل اور تقدیر کو بھی عجیب و غریب شکل دے دی ہے۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ملت کی حفاظت اور سربلندی کے لیے ہمارے پاس نہ کوئی منصوبہ بندی ہے نہ تگ و دو اور کوشش، مگر اس کے باوجود بھی ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ ہمیں عزت اور سربلندی عطا کرے گا اور ہمیں مسائل اور مشکلات کا سامنا نہ ہوگا۔
میرے بھائیو یہ خیال خام ہے اور اس نے ملت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ 
موجودہ الیکشن میں ہمیں مندرجہ ذیل امور پر خصوصی توجہ دینیہوگی۔
ہم میں سے ہر فرد کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارا ووٹ لازماً ڈالا جائے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ایک ووٹ سے کیا ہوگا۔ یہ مفروضہ بالکل غلط ہے۔ ایک ایک ووٹ مل کر ہی ہزاروں لاکھوں میں تبدیل ہوتا ہے۔ موجودہ انتخابی کشاکش میں بہت سے امیدوار چند سو ووٹوں یا صرف چند ووٹ کے فرق سے بھی ہار جیت سے دوچار ہوتے ہیں۔محلے کی سطح پر ایسی کمیٹیوں کی تشکیل کی جائے جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارا صد فی صد پول ہو۔ ووٹ نہ ڈالنا یا ووٹ کا صحیح استعمال نہ کرنا ایک طرح کا ملّی جرم ہے جس پر ہم مواخذے سے نہیں بچ سکتے۔ 
اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر ڈالیں، حلقہ انتخاب، شہر اور محلے کی سطح پر مشاورت ہونی چاہیے اور متفقہ طور پر کسی اچھے امیدوار کو ووٹ دینا چاہیے۔آج فرقہ پرست قوتوں کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ ہمارے ووٹوں کو تقسیم کرنے میں کامیاب ہیں۔ ان علاقوں سے بھی ہمارے امیدوار شکشت فاش سے دوچار ہوتے ہیں جہاں ہماری بڑی تعداد آباد ہے اور ہم نتائج پر اثر انداز ہونے کی مکمل پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ 
اپنا ووٹ فروخت کرنا سخت قسم کی خیانت اور قومی بے ایمانی ہے۔ ہر ممکن کوشش کیجیے کہ کوئی امیدوار پیسے کی طاقت سے آپ پر یا دوسرے رائے دہندگان پر اثر انداز نہ ہو۔ پیسے لے کر ووٹ بیچنا سخت ناپسندیدہ گناہ اور قانونی جرم ہے۔
کسی ایسی پارٹی کو ہرگز ووٹ نہ دیں جو کھلم کھلا مسلم دشمنی کا اظہار کرتی ہو اور مسلمانوں کے درپہ آزار رہتی ہو۔نہ تو ایسی پارٹی کے ممبر بنیں، نہ پولنگ ایجنٹ اور نہ حامی و مددگار۔ اس وقت بہت سے مسلمان اپنے معمولی مفادات کے لیے اس طرح کی پارٹیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور پوری ملت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ایسے لوگ اللہ کے یہاں بھی شدید عذاب سے دوچار ہوں گے۔ 
مسلم دشمن پارٹیوں کی سازش ہے کہ ملک کے مختلف مذاہب اور گروہوں میں اختلافات اور دشمنی بڑھائی جاے۔ مسلمانوں کو اس طرح کے عناصر پہ سخت نگاہ رکھنی چاہیے۔ پیار محبت اور امن و آشتی فضا کو ہر ممکن طریقے سے باقی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔برادران وطن سے اپنے تعلقات خوشگوار بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اپنی منصبی ذمہ داری داعی الی اللہ کو پورا کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ فتنہ و فساد بپا کرنے والی قوتوں کا ناکام کر دینا اس وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
الیکشن کے سلسلے میں اپنے قومی جماعتوں اور قائدین کی اطاعت کی سخت ضرورت ہے اگر مسلمان اپنی قیادت کی اطاعت کریں تو ان کی سیاسی قوت میں اضافہ ہوگا۔ اگر ہر آدمی من مانے طریقے سے خود فیصلے کرے گا تو ملت اپنے مفادات اور حقوق کی حفاظت کے لیے کسی طرح کا دباو بنانے میں ناکام ہوگی۔
الیکشن کے دوران اپنی پالیسی اور حکمت عملی کا بہت زیادہ پرچار اور تشہیر نہ کریں۔ نہ ایسے کمنٹ اور تبصرے کریں جو دوسرے مذاہب اور گروہوں کو ہمارے خلاف متحد کر دیں۔سوشل میڈیا پر خاص طور سے ہر طرح کی اشتعال انگیز آڈیو، ویڈیو ڈالنے یا کمینٹ کرنے سے احتراز کریں جس سے مذہبی منافرت میں اضافہ ہو۔
الیکشن کے سلسلے میں ہمیں اپنی جملہ تمام تدابیر خاموشی اور حکمت کے ساتھ انجام دینی ہوں گی۔شور و غوغا اور ہنگامے سے دور رہ کر خاموشی سے اپنا کام کرنا چاہیے۔ ہم کام کم کرتے ہیں اور بلاوجہ کے شوروغوغا سے اپنے معاندین کو متحد کردیتے ہیں۔ 
موجودہ حالات میں مسلمانوں میں ایک طرح کی شکشت خوردگی اور مایوسی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔
ملت کے ہر فرد کو اس صورتحال سے نکلنا ضروری ہے۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اس سے بہت برے حالات سے بھی یہ امت کامیاب باہر نکلی اور سرخرو ہوئی ہے۔ بس ہمیں اپنے حالات کو بہتر کرنے اور اپنی صفوں میں مضبوطی پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ 
ملت کا ہر فرد حالیہ اسمبلی الیکشن کو ایک اہم کام اور ملی ضرورت سمجھتے ہوے اس کے لیے فکر مند ہو۔ہر فرد اس خطرے کو محسوس کرے جو فاششٹ فرقہ پرست طاقتوں کے اقتدار میں آنے سے ہمیں لاحق ہیں۔مہارشٹرا میں تو اب یہ پارٹیاں اپنے عزائم اور منصوبوں کا کھلم کھلا اظہار بھی کر رہی ہیں۔
الیکشن کے سلسلے میں مذہبی، تعلیمی اور سماجی تنظیمیں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ موجودہ حالات میں ہماری تھوڑی سی لاپروائی، سستی اور کوتاہی ہماری قوم کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یہ الیکشن ہمارے ہاتھ میں ایک موقع ہے کہ اس ریاست میں ہم اپنے دستوری اور جمہوری حقوق کی حفاظت کر سکیں۔
اللہ ہم تمام لوگوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
 
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
 
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading