ممبئی 25،ستمبر(ایجنسیز) مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہیں ،مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) اور مہایوتی نے اس کے لیے کمر کس لی ہے۔لیکن سب سے زیادہ کانگریس پارٹی کو دشواری کا سامنا کرنا پڑرہاہے،کیونکہ ممبئی سمیت ریاست بھر میں گزشتہ ایک عشرے میں نئے لیڈروں نے سر اٹھایا ہے اور انہوں نے کئی حلقوں میں آپ ے کام کی بنیاد پر ٹکٹ کامطالبہ کیاہے اور یہ ہائی کمان کے لیے سر درد بن گیاہے۔پارٹی ذرا ئع کے مطابق کئی سابق کارپوریٹر ز اور ایم ایل ایز بھی میدان میں کود گئے ہیں کیونکہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد مہاراشٹر میں ایم وی اے اور کانگریس کے لیے حالات سازگار بن گئے ہیں۔
یہ ایک لمبی فہرست ہے اور ان میں ایک سابق کارپوریٹر سفیان ونو نے بائیکلہ سے دعویٰ پیش کیا ،اس کا امکان کم ہے ،دراصل 2019 میں شیوسینا امیدوار یمنی جادھو کامیاب ہوئی تھیں اور وہ شندے گروپ میں شامل ہوگئیں۔شیوسینا ادھو ٹھاکرے اس پر دعویدار ہے۔اس معاملہ میں سب سے زیادہ تنازع باندرہ ویسٹ کی نشست پر ہے،کیونکہ لوک سبھا انتخابات نہیں لڑنے کے بعد مشہور اداکار اور آنجہانی کانگریسی وزیر سنیل دت کی صاحبزادی اور سابق ایم پی پریہ دت اسمبلی الیکشن لڑنے کے لیے پرتول رہی ہیں۔ پر یہ دت باندرہ مغربی اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی آشیش شیلار کے خلاف اسمبلی انتخابات میں حصہ لیں گی۔
حالانکہ ان کے خلاف ناراضگی ہے کیونکہ ان دس سال میں پریہ دت عوام سے دور رہی ہیں ،پارٹی میں ہی نہیں بلکہ عام آمی میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر چہ ابھی پارٹی کی سطح باضابطہ طور پر اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن فی الحال پریہ دت کی امیدواری کو لیکر سیاسی حلقوں میں کافی چر چاہے۔ واضح رہے کہ کا نگریس میں سینئر لیڈر اسلم شیخ اور ممبئی کانگریس کی صدراور ایم پی ورشا گائیکواڑنے بھی حال میں پریہ دت سے ملاقات کی۔ جس کے بعد سیاسی حلقوں میں پریہ دت کی امیدواری کے بارے میں زور دار ہلچل شروع ہو گئی ہے۔
غور طلب ہے کہ باندرہ مغربی علاقہ شمالی وسطی ممبئی لوک سبھا حلقہ کے تحت آتا ہے۔ اس سے قبل پر یہ دست دو بار لوک سبھا میں اس حلقے کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ اس سے پہلے ان کے والد آنجہانی اداکار سنیل دت یہاں سے رکن پارلیمنٹ رہے تھے۔پریہ دت ایم پی کے بعداب ایم۔ایل اے بننے کی دوڑ میں شامل۔ہونا چاہتی ہیں اور قیاس ہے کہ وہ ہائی کمان سے ٹکٹ حاصل کرلیں گی۔لیکن دس سال سے حلقہ میں کام۔کرہے اور امید لگائے بیٹھے لیڈر ناراضگی ظاہر کررہے ہیں۔