مودی حکومت اور جمہوری ادارے

شبیع الزماں (پونہ)

جمہوری نظام کی بقا کے لیے جمہوری اداروں کا آزادنہ طور پر کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس حوالہ سے دنیا میں اس کی تعریف کی جاتی رہی ہے کہ یہاں جمہوری اداروں کو آزادی حاصل ہے جیسے یہاں الیکشن کمیشن حکومت کی دخل اندازی سے محفوظ رہتا ہے۔ فوج ملکی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتی بلکہ سول اتھارٹی ہی ٖ فوج سے متعلق فیصلے بھی لیتی ہیں۔اسی طرح عدلیہ،میڈیا وغیرہ دوسرے ادارے بھی آزاد ہیں۔لیکن پچھلے چار سالوں سے یہ کوشش کی جارہی ہےکہ ہندوستان میں دستور کا نفاذ کرنے والے اداروں کو کمزور کر دیا جائے بلکہ اس پورے institutional framework کو ہی کمزور کر دیا جائے جو سرکار پر گرفت کر سکتا تھا۔ قانون کی حکمرانی کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ یہ ادارے آزادانہ طور پر کام کریں۔

سی بی آئی ہندوستان کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی ہے۔اس کے ڈائرکٹر کو سرکار نے غیر قانونی طریقے سے راتوں رات ہٹا دیا۔ اور انکے ماتحتوں نے جو وزیر اعظم کے خاص لوگوں میں شمار ہوتے ہیں ڈائریکٹر کے خلا ف سازشیں شروع کردی ہیں۔ڈائریکٹر کو ہٹانے کی دو الگ الگ وجہ سامنے آرہی ہیں بعض لوگ کہہ رہے ہیں اسپیشل ڈائرکٹر استھانا جو مودی کے قربی ساتھی ہیں انکو بچانے کے لیے یہ کیا جارہا ہے اور بعض لوگ اس کی وجہ رافیل معاملہ کو بتا رہے ہیں۔ وجہ بہر حال کوئی بھی ہو ہندستان کی سب سے بڑی سرکاری ایجنسی کے اندر حکومت نے مداخلت کرکے اس کو دنیا کے سامنے تماشہ بنا دیا ہے۔

اسی طرح الیکشن کمیشن ایک دوسرا ادارہ ہے جس کے ذمہ ہندوستان میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کروانا ہے۔ہندوستان کا الیکشن کمیشن اس کے لیے دنیا میں مشہور بھی رہا ہے کہ غیر جانبدار رہتا ہے اور سرکار کی طرف اس کا جھکاؤ نہیں ہوتا ہے۔لیکن پچھلے تین چار سالوں میں الیکشن کمیشن کا رویہ مستقل طور پو سوالات کے گھیرے میں ہے۔ پچھلے دنو ں معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ الیکشن کمیشن نے تین ریاستوں کے انتخابات کے اعلان میں صرف اس لیے delay کیا کہ وزیر اعظم کو ان میں سے کسی ایک ریاست میں کچھ اسکیموں کے اعلان کرنے تھے۔الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کو چار گھنٹہ راحت دی تاکہ وہ ووٹرس کو رجھانے کے لیے کچھ اسکیموں کے اعلان کر سکیں۔

ہندوستان میں فوج کو ہمیشہ سیاست سے علیحدہ رکھا گیا ہے۔ ملکی سیاست میں کیسی ہی افتاد آ پڑے لیکن فوج ملکی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی تھی لیکن دھیرے دھیرے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ فوج کی مداخلت بڑھتی جارہی ہے۔آرمی چیف بار بار پریس کانفرنسز کر رہے ہیں حالانکہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا دوسرے انکے بیانات موجودہ حکومت کی آئیڈیالوجی سےکافی قریب محسوس کیے جا رہے ہیں۔آرمی کی سیاسی معاملات میں مداخلت ایک خطرناک رجحان ہے جو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

یونیورسٹیز ہندوستان میں ہمیشہ سرکاری مداخلت سے آزاد رہیں لیکن پچھلے چار سال کے عرصہ میں سرکارمسلسل یونیورسٹیز میں دخل اندازی کر رہی ہے۔ یو جی سی کی آزادی ختم کرکے اسکو حکومت کے ذیلی ادارے کی حیثیت دے دی گئی ہے۔

میڈیا سے امید کی جاتی ہے کہ سرکار کی سچائیاں دنیا کے سامنے لائے گا لیکن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑا حصہ حکومت نوازی میں لگا ہوا ہے۔ جو خریدے نہیں گئے ان پر دباؤ بنایا جا رہا ہے۔میڈیا کا بڑا حصہ سرکار کا مائوتھ آرگن بن گیا ہے۔

آر بی آئی بھی حکومت کے دباؤ میں ہے۔ آر بی آئی اور سرکار کی۔ناراضگی کی خبریں آتی رہتی ہیں اور اب محسوس ہو رہا ہے کہ آر بی آئی کے گورنر بھی دباؤ کے چلتے استعفیٰ دے دیں گے۔ آر بی آئی کے ڈیپوٹی گورنر کا یہ بیان حکومت کے دباؤ کی کہانی صاف بیان کر رہا ہے

” Governments that do not respect central bank independence will sooner or later incur the wrath of financial markets”

حکومت سرکاری ایجنسیوں کو اپنے مخالفین چاہے سیاسی مخالفین ہوں یا سول سوسائٹی کے افراد کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ہر قسم کی مخالفت کو دبانے کے لیے انکم ٹیکس، ای،ڈی،سی بی آئی اور دوسری ایجنسیوں کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کا کچھ نہ کچھ غلط استعمال ہر سرکار کرتی ہے لیکن ایک محدود دائرے کے اندر کرتی ہے لیکن اس حکومت نے سابقہ تمام حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

اس پورے institutional eco system میں سپریم کورٹ وہ آخری ادارہ بچا ہے جس سے کچھ امیدیں وابستہ ہیں لیکن جب کہ پورا سسٹم ہی کمزور ہوگیا تو سپریم کورٹ اکیلے کب تک پورا بوجھ سہہ پائے گا۔ حکو مت کوشش کر رہی ہے کہ اس آخری ادارہ کو بھی قابو میں کر لیا جائے۔ پچھلے چار سالوں میں ججوں کی بھرتیاں جس طریقہ پر ہوتی رہی ہیں اس پر شک و شبہ کا اظہار کیا جاتا رہا ہے،کورٹ کے بعض فیصلے سوالات کے گھیرے میں آئے ہیں۔

حکومت کی کوششیں جاری ہیں کہ سپریم کورٹ کو قابو میں کیا جائے۔اسکے مرکزی وزیر تک سپریم کورٹ کے خلاف بیانات دے رہےہیں، سبری مالا معاملہ میں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے سپریم کورٹ کو یہاں تک نصیحت کردی کہ وہ آستھا کے معاملہ میں فیصلے نہ سنائے۔ اس سے پہلے ارون جیٹلی کورٹ کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں

Are we weaking the authority of the elected,and creating power shift in favour of non accountable institutions ultimately at the the center and state its only elected who are accountable.

سپریم کورٹ پر بی جے پی لیڈروں کی تنقید اتنی بڑھ گئی کہ یشونت سنہا کو ٹویٹ کر کے کہنا پڑا ’’ سبری مالا معاملہ پر بے جے پی نے کورٹ کے آرڈر کی مخالفت کی،یہاں تک کہ تششد کی دھمکی دی،اور اب وہ رام مندر کیس کو postponed کرنے پر سپریم کورٹ کی مخالفت کررہی ہے۔جو پارٹی حکومت میں ہےوہ یہ سب کر رہی ہے۔ برائے مہربانی وزیر اعظم اپنا منہ کھولیں ـ‘‘ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کے باقی رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اداروں کی آزادی باقی رہے اگر یہ آزادی ختم ہوئی تو ہندوستانی جمہوریت بکھر جائے گی اور سماج سے آزادی ختم ہوجائے گی۔ اسکے بعد ہندوستان میں امن و امان ،لا اینڈ آرڈر کی کیا صورت حال ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ہندوستان میں آزادی کو بر قرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اداروں کا تحفظ کیا جائے۔ اسکا فوری حل یہ ہے کہ ایسی حکومت لائی جائے جو قانون اور جمہوری اداروں کی آزادی میں یقین رکھتی ہو نہ جبر و استبداد میں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading