ممبرا، اورنگ آبادداعش معاملہ میں9 ملز مین پر فرد جرم عائد

؍ فروری سے اورنگ آباد خصوصی عدالت میں کیس کی سماعت شروع 4

اورنگ آباد 27؍ جنوری ( پریس ریلیز ) ممنوعہ تنظیم داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں اورنگ آباد اور ممبرا کے گرفتار شدہ نو جوانوں کا مقدمہ اورنگ آباد کی خصوصی عدالت میں برق رفتاری سے جاری ہے آج یہاں این آئی اے عدالت کے خصوصی جج بھونسلے صاحب کے رو برو ممبرا اور رنگ آباد داعش معاملہ میں جملہ 9 ؍ ملزمین پر فرد جرم عائد کردیا گیا ہے،4 ؍ فروری سے اورنگ آباد کی خصو صی عدالت میں اس کیس کی سماعت شروع ہوجائے گی،اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔

مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبرا، اور اورنگ آباد معاملے میں اورنگ آباد اور ممبرا سے گرفتار کئے گئے9؍مسلم نوجوان مظہر عبد الرشید ،محسن سراج الدین خان ،سلمان سراج الدین خان ،تقی سراج الدین خان ،سر فراز عبد الحق عثمانی،طلحہ حنیف پوترک ،فہد اشتیاق انصاری ،ضمان نواب قطو پاڑاور مشاہد کا مقدمہ جمعیۃ علما مہاراشٹر کی لیگل ٹیم جوکہ ماہرین قانون داں پر مشتمل ہے اور رنگ آباد کی خصوصی عدالت میں پیروی کررہی ہے۔ لیگل سیل کی مسلسل کو ششوں کے بعدآ ج اس مقدمہ میں ملزم بنائے گئے تمام ملز مین پر فرد جرم عائد ہو گئے ہیں اور ماہ فروی کے پہلے ہفتے سے اس کیس کی سماعت شروع ہونے جا رہی ہےعدالتی کاروائی کو دیکھتے ہوئے ملز مین کو جلد انصاف ملنے کی امید پیدا ہورہی ہے۔

واضح رہے کہ ممبرا، اور اورنگ آباد معاملےمیں بڑی دھاندلیاں،غیر قانونی چیزیں ،اور قانونی ضابطوں کی خلاف ور زی کی گئی ہے۔۔عدالت میں داخل کردہ فرد جرم میں کئی قسم کے الزامات عائد کئے گئے ہیں جس میں یواے پی اے جیسے سخت ترین قوانین سمیت چار دفعات لگائے گئے ہیں جن میں 18،20،38،اور 39 شامل ہیں اور تعزیرات ہند کے دفعہ 201 اور 120 بی اور ممبئی پولیس ایکٹ کا دفعہ 135 لگایا گیا ہے ۔، اورنگ آباد عدالت میں اس کیس کی پیروی کرنے والے جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری سینر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے کہا کہ یہ کیس جھوٹی بنیادوں پر کھڑا کیا گیا ہے حقیقت سے کوسوں دور ہے یہ سارے ملز مین بے قصور تھے ،ہیں اور رہیںگے اور انشاءاللہ ہم ان کی بے گناہی عدالت میں ثابت کرکے رہیں گے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading