ممبئی میں بڑا ریل حادثہ، دو لوکل ٹرینیں مخالف سمت سے آمنے سامنے گزر رہی تھیں،، 13 مسافر پٹری پر گر گئے، 4 ہلاک

تھانے (آفتاب شیخ)پیر کی صبح ممبئی میں سینٹرل ریلوے کے ممبرا اور دیوا اسٹیشن کے درمیان ایک بڑا ریل حادثہ پیش آیا۔ دو لوکل ٹرینیں مخالف سمت سے آمنے سامنے گزر رہی تھیں۔ اس دوران دونوں ٹرینوں کے دروازوں پر لٹک کر سفر کرنے والے مسافروں کے بیگ آپس میں الجھ گئے، جس کے نتیجے میں 13 مسافر چلتی ٹرین سے نیچے گر گئے۔ اس حادثے میں اب تک 4 مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 9 افراد زخمی ہیں، جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔https://www.instagram.com/reel/DKr0f0IoxTM/?igsh=dmtmeXA5dWVodXFy

یہ دلخراش واقعہ صبح تقریباً ساڑھے 9 بجے پیش آیا۔ کسارا سے سی ایس ایم ٹی جانے والی لوکل ٹرین کے دروازوں پر کئی مسافر لٹکے ہوئے تھے، اسی دوران سامنے سے سی ایس ایم ٹی سے کلیان جانے والی دوسری لوکل آ رہی تھی۔ دونوں ٹرینوں میں لٹکے مسافروں کے بیگ آپس میں الجھنے کے باعث جھٹکا لگا اور 13 افراد نیچے پٹری پر گر پڑے۔ حادثے کے فوراً بعد زخمی مسافروں کو قریبی اسپتالوں، کلوا اور ممبرا میں داخل کرایا گیا، جبکہ کچھ شدید زخمیوں کو جیوپیٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت:

1. راہل سنتوش گپتا (28)، رہائشی دیوا

2. سروج کیتن (23)، رہائشی الہاس نگر

3. میور شاہ (50)

4. مچھندرا مدھوکر گوترنے (31)، پولیس کانسٹیبل

زخمیوں کا علاج جاری: زخمیوں میں شیوا گوالی، انل مورے (شدید زخمی)، آدیش بھویر، ریحان شیخ، تْشار بھگت، منیش سروج، مچھندرا گوترنے، سنہا ڈونڈے اور پریینکا بھاٹیہ شامل ہیں۔ زیادہ تر زخمی چھترپتی شیواجی مہاراج اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ریلوے انتظامیہ کا موقف: سینٹرل ریلوے کے ترجمان سْپنِل نیلا نے وضاحت کی کہ حادثے کا پْشپک ایکسپریس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ حادثہ صرف اس وجہ سے پیش آیا کہ لوکل ٹرینوں کے دروازوں پر لٹکے مسافروں کے بیگ آپس میں ٹکرا گئے۔ حادثے کی وجوہات کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔

حادثے کے بعد کیے گئے فیصلے:

نئی لوکل ٹرینوں میں خودکار دروازے نصب کرنے کا منصوبہ

پرانی لوکل ٹرینوں میں بھی دروازے خودکار بنانے پر غور

کلیان سے کسارا تک تیسری اور چوتھی لائن کی تعمیر کا منصوبہ

کرلا تک پانچویں اور چھٹی لائن بنانے کا منصوبہ

تھانے سے سی ایس ایم ٹی تک چھٹی لائن کا اپ گریڈیشن

سیاسی رہنماؤں کا ردعمل:

وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس: حادثے پر افسوس کا اظہار اور لواحقین سے ہمدردی۔ زخمیوں کے بہترین علاج کی ہدایت دی۔

راج ٹھاکرے (ایم این ایس): حادثہ ریلوے انتظامیہ کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ ممبئی جیسے میٹرو شہر کی ٹرانسپورٹ بدحال ہے۔ مرکز کو ریلوے کی حالت پر توجہ دینی چاہیے۔

جتندر آوہاڈ (این سی پی – شرد پوار گروپ): انہوں نے لوکل ٹرینوں میں خودکار دروازے لگانے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے گھٹن پیدا ہوگی۔ دیوا لوکل کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔

شرد پوار (این سی پی – شرد پوار گروپ): مسلسل پیش آنے والے ریل حادثات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

نریش مہسکے (شیوسینا – شندے گروپ): حادثے کے لیے انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ہجوم کے مسئلے پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔

امدادی کارروائی جاری: تھانے کے نائت تحصیلدار دینیش پیٹھنکر نے بتایا کہ انتظامیہ کی ٹیم فوراً موقع پر پہنچ گئی تھی۔ حادثے کی تحقیقات جاری ہے اور متاثرہ مسافروں کے رشتہ داروں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

ممبئی کا یہ لوکل ٹرین حادثہ ایک بار پھر بڑھتی بھیڑ اور بدنظمی کو اجاگر کرتا ہے۔ جہاں ریلوے نیٹ ورک کی توسیع کے منصوبے جاری ہیں، وہیں ماہرین کا ماننا ہے کہ مسافروں کی حفاظت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading