ملیشیا میں ذاکر نائیک کے جلسوں پر پابندی عائد’مستقل شہریت منسوخ کی جا سکتی ہے

ملاکا اسٹیٹ:ملیشیا میں اشتعال انگیزتقریرکے معاملے میں ذاکرنائک کے خلاف جانچ جاری ہے۔ملیشیا میں ذاکرنائک پرزمین تنگ ہو رہی ہے ۔ ملاکا اسٹیٹ میں مذہبی جلسوں اورتقاریر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔آپکو بتادیں ملیشیا کی چھ ریاستوں میں پہلے ہی انکے مذہبی پروگراموں پرپابندی لگائی جاچکی ہے۔ حال ہی میں ذاکر نائک نے اپنے تقریر میں کہا تھا کہ ملیشیا میں ہندو برادری کے لوگوں کو مسلم برادری سے سو گنا زیادہ حقوق دئے جا رہے ہیں ۔ جسکے بعد ملیشیا کے کئے وزراء نے ذاکر نائک کے خلاف کاروائی کی مانگ کی تھی.
واضح رہے کہ اس سے پہلے میڈیا رپورٹوں میں ملیشیا کے وزیر اعظم مآثر محمد کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ ذاکر نائک کی مستقل شہریت منسوخ کی جا سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق، اس معاملہ میں پولیس کی جانچ پوری ہونے تک حکومت کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ذاکر نائک پر ملیشیا کی اقلیتوں، چینی شہریوں اور ہندوستانیوں کو لے کر متنازع اور حساس خطاب کرنے کا الزام ہے۔ ذاکر نائک نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ملیشیا میں ہندوؤں کے پاس ہندوستان کے اقلیتی مسلمانوں سے سو گنا زیادہ اختیارات ہیں.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading