مظاہرہ LIVE: کیرالہ میں سی اے اے کے خلاف مظاہروں میں 100 افراد حراست میں

کیرالہ میں سی اے اے کے خلاف مظاہروں میں 100 افراد حراست میں

ترواننت پورم: کیرالہ میں منگل کے روز شہریت ترمیم ایکٹ (سی اے اے) کے سلسلے میں ہوئے مظاہروں کے دوران تشدد کے معاملے میں اب تک 100 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔

ریاست میں سی اے اے میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، ویلفئر پارٹی، کیرالہ مسلم یوتھ فیڈریشن، بہوجن سماج پارٹی، ایس جی او اور سالیڈیٹری آرگنائزشن نے مشترکہ طور پر مظاہرے کا انعقاد کیا ہے۔

اس دوران مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور اور کئی مقامات پر سڑکیں جام کردیں، جس کے سبب ٹریفک میں رخنہ پڑا۔ سی اے اے کے خلاف ہورہے مظاہروں کے سبب پوری ریاست میں ٹرین خدمات تاخیر سے چل رہی ہیں اور پرائیویٹ گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہیں۔

اوکھلا: کئی مسجدوں کے امام جامعہ طلبا پر پولس بربریت کے خلاف سڑکوں پر اترے

نئی دہلی: جامعہ نگر علاقے کی کئی مسجدوں کے امام آج سڑک پر اتر کر شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے۔ مختلف مسجدوں کے امام جامعہ کے مرکزی دروازے پر آکر طلبہ کے ساتھ متحد نظرآئے اور ان پر اتوار کے روز ہوئی پولس بربریت کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ اس درمیان اماموں نے طلبا سے پرامن مظاہرے کی اپیل کی اور کہا کہ آئین بچانے کی اس لڑائی میں وہ طلبا کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں بابا صاحب امبیڈکر کے آئین پر ہمیں پورا بھروسہ ہے اور آئین سے چھیڑخانی کسی بھی حال میں برداشت نہیں ہے۔

خلیل اللہ مسجد کے امام نے کہا کہ ہم مسجدوں میں رہتے ہیں لیکن ملک اور آئین پر جس طرح کا خطرہ منڈرا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے سڑک پر اترے ہیں۔ اماموں نے اتوار کی رات پولس کی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولس نے جامعہ کی مسجد میں گھس کر امام کے ساتھ دھکا مکی کی ہے جو قابل مذمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولس کس منشا سے مسجد میں گھس کر امام کے ساتھ بدسلوکی کی، اس کا جواب حکومت کو دینا پڑے گا۔ طلبا کے ساتھ مجرمین سے بھی برا سلوک کیا گیا جو بے حد شرمناک ہے۔

اڈیشہ: بھونیشور میں شہریت قانون کے خلاف لوگوں کی بھیڑ سڑکوں پر اتری

شہریت ترمیمی قانون کو لے کر پورے ملک میں مظاہرے جاری ہیں اور اس درمیان اڈیشہ کے بھونیشور کیا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر کر مودی حکومت کے ذریعہ لائے گئے اس قانون کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اقلیتی طبقہ سے جڑے ہوئے لوگ اس مظاہرے میں نو منظور شدہ شہریت قانون کے ساتھ ساتھ این آر سی کے خلاف بھی نعرے لگا رہے تھے۔


شہریت قانون کے خلاف ہو رہے مظاہروں پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع

شہریت قانون کے خلاف ہو رہے مظاہروں پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو چکی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ ٹرائل کورٹ نہیں اس بات کا خیال رکھا جائے۔ عدالت نے یہ رد عمل ایک وکیل کے بیان پر دیا۔ وکیل نے کہا کہ شہریت قانون کے کلاف مظاہرہ کے دوران مغربی بنگال سمیت ملک کے کئی حصوں میں پبلک پراپرٹیز کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔


جامعہ طلبا پر پولس بربریت کے خلاف لاء اسکول کے طلباء نے بھی اٹھائی آواز

نیشنل لا اسکول سے جڑے کئی اداروں نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ سبھی طلبا نے جامعہ اور اے ایم یو طلبا پر پولس کے ذریعہ کی گئی بربریت کی بھی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور کہا کہ اپنی آواز بلند کرنے والے طلبا کے خلاف پولس کی ظالمانہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

جامعہ طلبا کے حق میں سامنے آئیں چنئی کی طالبات، کہا ’یہ اسلاموفوبیا ہے‘

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر اتوار کے روز ہوئی پولس بربریت سے پورے ملک کے طلبا ناراض ہیں۔ اب چنئی کی طالبات نے ان کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نومنظور شدہ شہریت قانون آئین مخالف ہے اور احتجاج کر رہے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسلاموفوبیا کی نشانی ہے۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading