مظاہرہ LIVE: جامعہ اور اے ایم یو طلبا کے ساتھ تشدد کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ

جامعہ اور اے ایم یو طلبا کے ساتھ تشدد کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ

شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ ہوئے تشدد کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے اور اس معاملے کی سماعت اب منگل کے روز ہوگی۔ دراصل سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے اس سلسلے میں ایک عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی ہے۔ ان کی عرضی پر غور کرتے ہوئے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تشدد رکے۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس بوبڈے نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ سبھی زخمی طلبا کو میڈیکل سہولت مہیا کرانے کا انتظام کرے۔

جسٹس بوبڈے نے اپنی بات رکھتے ہوئے عدالت میں کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ کون ذمہ دار ہے۔ ہم بس چاہتے ہیں کہ ابھی عدالت میں امن بنائے رکھیں۔ یہ معاملہ سامنے آنے دیجیے پھر ہم دیکھیں گے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ بسوں کو آگ لگائی گئی ہے، سرکاری ملکیتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ عرضی دہندہ کو پھٹکارتے ہوئے جسٹس بوبڈے نے کہا کہ یہ کیا طریقہ ہے؟ اندرا جے سنگھ نے اس پر کہا کہ آگ پولس لگا رہی ہے۔ اپنی بات رکھتے ہوئے اندرا جے سنگھ نے اتنی زور سے بولا کہ عدالت کو کہنا پڑا کہ ’’پہلے آپ مائک بند کریں۔‘‘


بی جے پی-آر ایس ایس پورے ملک کا ماحول خراب کر رہی: پینارائی وجین

کیرالہ میں اس وقت ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کے ذریعہ شہریت قانون 2019 کے خلاف احتجاجی مظاہرہ چل رہا ہے اور اس درمیان ریاست کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے ماحول کو بی جے پی-آر ایس ایس خراب کر رہی ہے، وہ اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پینارائی وجین نے مزید کہا کہ پورے ملک میں تشدد ہو رہا ہے، خوف کا ماحول ہے۔ کیرالہ اس وقت پوری طرح متحدہ ہے اور شہریت قانون کے خلاف کھڑی ہے۔


جامعہ طالب علم نے شرٹ اتار کر پولس بربریت کے خلاف اٹھائی آواز

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ایک طالب علم دہلی پولس کی بربریت کے خلاف آج علی الصبح شرٹ اتار کر یونیورسٹی کے دروازے پر بیٹھ گیا ہے۔ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ اتوار کے روز جامعہ طلبا کے ساتھ جس طرح کی ظالمانہ کارروائی پولس نے کی ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کچھ میڈیا ذرائع کے مطابق شرٹ اتارنے والے طالب علم نے پولس کی کارروائی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’آؤ مجھے بھی پیٹو۔‘‘


پولس نے جو کیا وہ ٹھیک نہیں، میں طلباء کے ساتھ کھڑی ہوں: جامعہ وائس چانسلر

نومنظور شدہ شہریت قانون کے خلاف خاموشی کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کر رہے طلبا کو دہلی پولس نے تشدد کا نشانہ بنایا ہی، جو طلبا اس احتجاجی مظاہرے میں شامل نہیں تھے، انھیں بھی پولس کی بربریت کا سامنا کرنا پڑا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں پولس کے بلااجازت گھس کر طلباء و طالبات پر لاٹھی چارج کیے جانے اور لائبریری میں پڑھ رہے طلبا کو نشانہ بنائے جانے سے ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی کی وائس چانسلر نجمہ اختر نے اس پورے واقعہ کے بعد طلباء کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ تنہا طلباء کی لڑائی نہیں ہے، میں ان کے ساتھ ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح سے طلبا کے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے، اس سے وہ بہت مایوس ہیں۔

وائس چانسلر نجمہ اختر کا اس سلسلے میں ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے۔ اس میں وہ کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ ’’جس طریقے سے میرے طلبا کے ساتھ پیش آیا گیا ہے، اس سے میں غمزدہ ہوں۔ میں میرے طلباء کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس لڑائی میں وہ تنہا نہیں ہیں۔ میں ان کے ساتھ ہوں۔ میں اس معاملے کو جہاں تک ہوگا، آگے لے کر جاؤں گی۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading