مصر میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس نے ایک آڈیو کلپ پھیلایا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نہر سویز کو ایک ٹریلین ڈالر میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کلپ کو خاص طور پر اخوان المسلمون سے وابستہ اکاؤنٹس اور پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔ کلپ سے بڑا تنازع پیدا ہوگیا۔
اس ویڈیو کلپ کے پیش نظر مصری کابینہ کے میڈیا سنٹر نے معاملے کی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے سویز کینال اتھارٹی سے رابطہ کیا۔ اتھارٹی نے اس خبر کی تردید کردی اور کہا کہ حکومت کی جانب سے نہر سوئز کو ٹریلین ڈالر میں فروخت کرنے کے ارادے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
کیبنٹ میڈیا سینٹر نے کہا کہ گردش کرنے والا آڈیو کلپ من گھڑت ہے اور اس میں موجود معلومات جعلی ہیں اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ کیبنٹ میڈیا سینٹر نے زور دیا کہ نہر سوئز مکمل طور پر مصری ریاست کی ملکیت رہے گی، اور اس کی خودمختاری کے تابع رہے گی۔کینال اتھارٹی کا پورا عملہ بشمول ملازمین، ٹیکنیشنز اور ایڈمنسٹریٹر جو مصری شہری ہیں، مصر سے وابستہ رہیں گے۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ نہر یا اس کی آئینی طور پر محفوظ کسی بھی سہولت کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
مرکز نے انکشاف کیا کہ مصر نہر کی حفاظت اور اس کی ملکیت کو مصری آئین کے آرٹیکل 43 کے تحت برقرار رکھنے کا پابند ہے۔ اس کی ملکیت میں ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے طور پر نہر سویز کے تحفظ، ترقی اور تحفظ کے لیے ریاست کا عہد بھی شامل ہے۔
سال 2022 کے آخر میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر ایک افواہ وسیع پیمانے پر پھیل گئی تھی ۔ مصری پارلیمنٹ کی جانب سے نہر سویز کے اثاثوں کو فروخت کرنے کے لیے ایک خودمختار فنڈ کے قیام کی اجازت دینے والے قانون کی منظوری کے بارے میں مصری خوف زدہ ہوگئے تھے۔ اس وقت پارلیمنٹ کے سپیکر نے وضاحت کی اور اس قانون کی حقیقت اور اس کے مقاصد کو بیان کیا تھا۔
سویز کینال اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اسامہ ربیع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے پچھلے بیانات میں انکشاف کیا تھا کہ اس قانون کا مقصد اتھارٹی کی پائیدار ترقی کے حصول، ہنگامی بحرانوں کا مقابلہ کرنے اور اقصادی سرگرمیوں کے لیے کچھ اقدامات کرنے کے لیے ایک فنڈ بنانا ہے۔