مسلمان مسجدوں میں ہتھیار رکھتے ہیں :بی جے پی لیڈر کا متنازع بیان

بنگلورو۔ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور رکن اسمبلی رینوکاچاریہ نے مسلمانوں پر متنازع بیان دیا ہے۔ پیر کو دیوناگرے میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر نے الزام لگایا کہ مسلمان مسجدوں میں ہتھیار اکھٹا کر کے رکھتے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمانوں کو ان کی جگہ بتا کر رہیں گے اور دکھا کر رہیں گے کہ سیاست کیا ہے۔ کرناٹک کے تعلقہ سے بی جے پی رکن اسمبلی کے اس بیان نے کئی طرح کے سوال کھڑے کر دئیے ہیں ۔

دیوناگرے کے ہونالی میں پیر کے روز یہ ریلی شہریت قانون کی حمایت میں بلائی گئی تھی۔ ریلی میں رکن اسمبلی نے الزام لگایا ’ وہ لوگ مسجد میں نماز پڑھنے کی جگہ ہتھیار اکھٹا کرنے کا کام کرتے ہیں۔ یہاں کچھ غدار وطن ہیں۔ تم لوگ مسجد میں بیٹھتے ہو اور فتوے لکھتے ہو؟ مسجد میں کیا ہے؟ وہاں پر ہتھیار اکھٹا کئے جاتے ہیں۔ کیا اس لئے مسجد چاہتے ہو؟ اگر تمہیں ایسا ہی کرنا ہے تو ٹھیک ہے، میں اپنی سیاست کرتا رہوں گا‘۔ بتا دیں کہ رینوکاچاریہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کے قریبی اور ان کے صلاح کار مانے جاتے ہیں۔

رینوکاچاریہ نے کہا ’ میں مسلمانوں کے لئے مختص بجٹ کا استعمال ہندوؤں کے کام کے لئے خرچ کرنے سے بالکل نہیں تردد کروں گا‘۔ انہوں نے کہا ’ میں تعلقہ میں مسلمانوں کے لئے مختص پیسوں کا استعمال ہندوؤں کے کام کے لئے کروں گا‘۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading