مراکش : مسجد کے اندر خواتین کے جھگڑے پر عوامی حلقے چراغ پا

مراکش کے شہر طنجہ کی ایک مسجد میں خواتین کی نماز کی جگہ پر عورتوں کے بیچ جھگڑے کے وڈیو کلپ نے عوامی حلقوں میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ رات سوشل میڈیا پر مراکشیوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر ایک وڈیو پھیلائی گئی جسے مذکورہ شہر کے ایک نمازی نے "لالہ عبلہ” مسجد کے اندر ریکارڈ کیا تھا۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص جگہ پر عشاء کی نماز سے قبل، اچانک خواتین کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا۔ خواتین کے بیچ چیخ و پکار کے نتیجے میں مسجد میں افراتفری پھیل گئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق خواتین کے درمیان جھگڑے کے سبب بعض مرد حضرات کو ہنگامہ روکنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔اس وڈیو نے سوشل میڈیا پر مراکشی حلقوں کے بیچ غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ عوام نے عبادت کی جگہ پر جھگڑا ہونے پر شدید تنقید کا اظہار کیا۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ رمضان کے مبارک مہینے اور مساجد کی حرمت کا خاص خیال کیا جانا چاہیے۔

اس واقعے کے نتیجے میں بعض لوگوں نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے خواتین کی اپنے گھروں سے باہر نماز کی ادائیگی کو ممنوع قرار دیا جانا چاہیے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات عوامی حماموں میں پیش آتے ہیں جو اب مساجد میں منتقل ہو گئے۔

مراکش کی مساجد میں بہت سی خواتین شکایت کرتی یہں کہ بالخصوص رمضان کے دوران میں نمازِ تراویح سے قبل بعض خواتین اپنی دوستوں اور متعلقین کے لیے جگہ گھیر لیتی ہیں۔ اس کے سبب خواتین کے حصے کے اندر تلخ کلامی اور پریشانی کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جانبی باتوں کی آوازیں بلند ہو کر ماحول کو نا پسندیدہ بنا دیتی ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading