مراٹھا سماج کے ریزرویشن کااستقبال لیکن مسلم ریزرویشن کا کیاہوا؟

مسلم متحدہ ریزرویشن ایکشن کمیٹی ناندورہ ضلع بلڈانہ کا حکومت سے سوال

جلگاوں:17 ِنومبر (سعیدپٹیل ) ریاستی پسماندہ کمیشن کا احوال آنے کے بعد پندرہ دنوں میں قانونی عمل مکمل کرکے مراٹھا سماج کے ریزرویشن کامسئلہ حل ہوجائے گا۔اس طرح کا اعلان حال ہی میں ریاست کے وزیراعلی شری دیوندر فڈنویس نے کیا ہے۔سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ مراٹھا سماج کے ریزرویشن کا ہم استقبال کرتے ہیں۔لیکن نسل در نسل ترقی سے محروم رہی مسلم برادری کے ریزرویشن کے تعلق سے حکومت کا کردار کیا ہیں ؟ اس طرح کا سوال مسلم ریزرویشن متحدہ ایکشن کمیٹی ناندورہ ضلع بلڈانہ کی جانب سے حاجی مزمل علی خان نے ایک پریس نوٹ کے ذریعے کیا ہے۔سچر کمیٹی ،رنگناتھ میشرا کمیشن ،ڈاکٹرمحمودالرحمٰن کمیٹی نے مسلم سماج کے سماجی تعلیمی حالات کا جایزہ ملک کے سامنے پیش کیاہیں۔دیگر پسماندہ طبقات سے بھی مسلمانوں کی حالت بہت ہی بدتر ہونے کا درج کرکے انھیں بھی ریزرویشن کی فوری ضرورت ہے۔یہ افسوسناک بات ہےکہ دستور نے ملک کے تمام شہریان کو ترقی کے مراحل میں مساوی حقوق دینے کی یقین دہانی کرانے کے باوجود ذات پات کے بھید بھاو¿ کی وجہ سے سوتیلا سلوک رواں رکھا گیا۔جس کی وجہ سے مسلیم نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر بیچینی پاءجاتی ہیں۔اس لئے مسلم سماج کو بھی ان کے حقوق دئے جائیں۔یہ ذمہ داری وقت کی حکومت کی ہیں۔اس طرح کا تحریری پریس نوٹ حاجی مزمل علی خان نے کیاہے۔اسی طرح اس پریس نوٹ کے ذریعے مذکورہ بالا کمیٹی نے مسلم سماج سے اپیل کی ہیں کہ مسلمان بھی اس سمت میں تمام آپسی اختلافات سے اوپر اٹھکر ریزرویشن کے مسئلہ پر فیصلہ کن جدوجہد کریں۔ایکشن کمیٹی کی جانب سے حاجی رشید خان جمعدار ،ایڈوکیٹ نذیر قاضی ،ناظم قریشی ،حاجی قاسم گوڈی ،عرفان علی ،ایڈوکیٹ مجید قریشی ،انصار احمد صدیقی ،حاجی عطااللہ پٹھان ،خالیق باپو دیشمکھ ،حاجی داو¿د سیٹھ ،کاشف کوٹکر ،حاجی عنایت اللہ خان ،انور چوھدری ،حاجی سعود سیٹھ ،حاجی اکرم ،رحیم خان ،بابوجمعدار ،ڈاکٹرامین ،شاھد شیخ وغیرہ کءمسلیم سماج کے مختلیف مکتب فکر وذمداران کے نام شامل ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading