مراٹھابرادری سے زیادہ مسلم برادری کو ریزرویشن دینا آسان تھا

اس حکومت کا سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ جھوٹا ہے: سچن ساونت

ممبئی: ریاستی بیک ورڈ کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد مراٹھا سماج کو ریزرویشن  دینے کی حکومت کی آمادگی  کے درمیان ریاستی کانگریس نے حکومت کی ایمانداری پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے اگر یہی رپورٹ ۲ سال-۳سال قبل طلب کرلی ہوتی تو مراٹھا ریزوریشن تحریک میں جتنے لوگوں کی جانیں گئی ہیں، ان کی  جانیں نہیں جاتیں اور یہ معاملہ بغیر کسی تحریک وآندولن کے حل ہوگیا ہوتا۔اسی کے ساتھ یہ حکومت اگر چاہتی تو مسلم سماج کو ریزرویشن دے دیتی جس کا بار بار وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔  ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری سچن ساونت نے آج ریاستی بیک ورڈ کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں کے سامنے اپنے ردعمل کا اظہار کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مراٹھا ہی نہیں بلکہ مسلم ودھنگر سماج کو ریزرویشن دینے کے معاملے میں بھی حکومت ایماندار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ کانگریسی حکومت نے مراٹھا سماج کے ساتھ مسلم سماج کو بھی ۵ فیصد ریزرویشن دیا تھا، اور عدالت نے مسلم سماج کے ریزرویشن کو منظوری بھی دی تھی، اس کے باوجود حکومت نے مسلمانوں کے ریزرویشن دینے سے انکار کردیا۔ سچن ساونت نے کہا کہ مراٹھا سماج سے زیادہ آسان مسلم سماج کو ریزرویشن تھا، لیکن یہ ایک مسلم دشمن حکومت ہے، اس لئے اس نے مسلمانوں کے ریزرویشن کو قانون کا بہانہ بناکر پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے مراٹھا ومسلم سماج کو جو ریزرویشن دیا تھا، وہ آئین وقانون کے عین مطابق تھا، مگر چونکہ یہ حکومت آر ایس ایس کے نظریات کے مطابق چل رہی ہے ، اور آر ایس ایس ریزرویشن مخالف ہے، اس لئے اس نے مسلمانوں کے ساتھ مراٹھا ریزرویشن کوبھی  التواء میں ڈال دیا۔ سچن ساونت نے کہا کہ اس حکومت نے مراٹھا ریزرویشن تحریک سے گھبرا کر بیک ورڈ کمیشن کی رپورٹ کے آنےکے بعد ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اب جبکہ یہ رپورٹ آچکی ہے اور رپور ٹ میں مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے، اس لئے اب ریزرویشن دینا اس کی مجبوری ہوگئی ہے۔ لیکن یہ مجبوری اسے مسلم براداری کے ریزرویشن میں محسوس نہیں ہوتی اور ہمیں اس حکومت سے امید بھی نہیں ہے کہ یہ مسلمانوں کو ریزوریشن دے گی۔ سچن ساونت نے کہا کہ اس حکومت نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس کا یہ وعدہ کتنا کھوکھلا اور جھوٹا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے۔ اگر یہ حکومت واقعتاً سب کا ساتھ سب کا وکاس میں ایماندار ہوتی تو اپنے ابتدائی دور میں ہی ریزرویشن پر ہی فیصلہ کرچکی ہوتی اور مراٹھا سماج کے ساتھ مسلم سماج کو بھی ریزوریشن دے چکی ہوتی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading