فیض آباد ،29 اکتوبر(پی ایس آئی)ایودھیا میں رام مندر بابری مسجد زمین تنازعہ کے معاملے میں پیر سے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت ایک بار پھر ٹل گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی سماعت سے پہلے دونوں اطراف کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے تھے۔ جہاں ایک طرف ایودھیا معاملے میں فریق اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اب فیصلہ ہونا چاہئے کیونکہ مسئلہ طویل ہو گیا ہے وہیں مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا، ‘اب ہندوو¿ں کا صبر ٹوٹ رہا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ اگر ہندوو¿ں کا صبر ٹوٹا تو کیا ہوگا؟ ‘ اقبال انصاری کا کہنا ہے، ’70 سال کا مسئلہ ہے۔ اس سماعت سے رہنماو¿ں کے لئے چاندنی رات ہو جاتی ہے۔ فیصلہ ہونا چاہئے۔ جھگڑا ختم ہونا چاہئے۔ ہم نے ثبوت پیش کیا ہے۔ رام مندر کے لئے کوئی نیا قانون لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت فیصلہ کرے گی۔ ‘ رام جنم بھومی ٹرسٹ کے سینئر رکن ڈاکٹر رام ولاس ویدانتی نے کہا کہ کورٹ کے فیصلے سے رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ مندر کی تعمیر 2019 کے پہلے شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کورٹ کے ججوں سے اپیل کی ہے کہ فیصلہ جلد سنائیں۔سپریم کورٹ میں سماعت ٹلنے سے پہلے آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار نے کہا، ‘کعبہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ہرمندر صاحب کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ویٹیکن کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور رام جائے پیدائش کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، یہ ایک حقیقت ہے۔’ شیعہ وقف بورڈ چیف وسیم رضوی نے کہا، ‘کچھ سخت گیر ملاو¿ں اور کانگریس کی سیاست کی وجہ سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پھنسا ہے۔ بھگوان اپنے گھر کے لئے انسانی عدالت کے فیصلے کے انتظار میں ہے۔ یہ شرمناک ہے۔ ‘ رام جنم بھومی ٹرسٹ کے سربراہ پجاری ستیندر داس نے کہا کہ کورٹ کا فیصلہ دونوں طبقے کو مانناہو گا۔ اس سے ملک میں امن بنی رہے گی۔ کورٹ کو روزانہ سماعت کرکے جلد فیصلہ سنانا چاہئے۔ ہمیں امید ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی طرح ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ ہندو طرف میں ہی ہوگا۔ ہائی کورٹ نے رام مندر کی زمین کا بٹوارہ نہیں ہوتا تو سپریم کورٹ میں کیس نہیں جاتا۔