مانسون میں تاخیر، مہاراشٹر کے کسانوں کی تشویش میں اضافہ،،اس علاقہ میں قحط سالی کا خطرہ

ممبئی: ریاست مہاراشٹر سمیت پورے ملک کے کسان مانسون کی آمد کے منتظر ہیں، تاہم اب تک جنوب مغربی مانسون کیرالہ نہیں پہنچ سکا ہے، جس کے باعث مہاراشٹر میں بھی مانسون کی آمد میں تاخیر کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس سال اوسط سے کم بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس سے ریاست کے بعض علاقوں میں خشک سالی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ودربھ میں کم بارش کا امکان

ناگپور محکمہ موسمیات کے سائنسدان پروین کمار کے مطابق اس سال ودربھ خطے میں بارش معمول سے کم رہنے کی توقع ہے۔ اندازے کے مطابق یہاں صرف 92 سے 94 فیصد بارش ہوگی۔ جولائی اور اگست کے دوران "ایل نینو” کے اثرات نمایاں رہنے کے باعث بارش میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ودربھ میں مانسون 10 سے 15 جون کے درمیان پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

زرعی شعبے کو بڑا نقصان پہنچنے کا خدشہ

محکمہ موسمیات کی طویل مدتی پیش گوئی کے مطابق اس سال پورے ملک میں مانسون کمزور رہ سکتا ہے اور مجموعی طور پر اوسط کا تقریباً 92 فیصد بارش ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش میں کمی کا سب سے زیادہ اثر زرعی شعبے پر پڑے گا۔ خاص طور پر بارانی علاقوں میں فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور آبی ذخائر پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔

10 جون تک مہاراشٹر میں مانسون کی آمد کے آثار نہیں

ماہرین موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب میں اس وقت جنوب مغربی مانسون کے لیے سازگار حالات موجود نہیں ہیں۔ مانسون کی پیش رفت اب کیرالہ میں اس کی آمد، ہواؤں کی رفتار اور سمندری صورتحال پر منحصر ہوگی۔ موجودہ حالات کے پیش نظر 10 جون تک مہاراشٹر میں مانسون کی آمد کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

کسانوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ

محکمہ موسمیات اور زرعی ماہرین نے کسانوں کو جلد بازی میں بوائی نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی بارشوں کو مانسون سمجھ کر فصلوں کی بوائی کرنے سے بعد میں بارش کا سلسلہ رکنے کی صورت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے کسان مستقل اور اچھی بارش ہونے کے بعد ہی کھیتی باڑی کے کام شروع کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading