لاک ڈاؤن قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے صوفی منصور الحسن شاہ کا 25واں سالانہ عرس انتہائی جوش وجذبہ کے ساتھ منایا گیا
ہزاروں عقیدت مندوں اور ضرورت مندوں کو لنگر اور راشن تقسیم کیا گیا
انسان کا اصل مذہب محبت اور خدمت خلق ہے- صوفی عبدالنعیم عطاء شاہ
تھانے (آفتاب شیخ)
گزشتہ 5 دن کے دوران شہنشاہ علم و عرفان، منبع فیوض و برکات، سلطان الاولیاء حضرت صوفی منصور الحسن شاہ ابوالعلائی المعروف منصور میاں رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پچیسویں سالانہ عرس کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ کھنڈی پاڑہ میں واقع خانقاہ منصوریہ پر بھی عرس کے سلسلے میں لاک ڈاؤن قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس دوران ہزاروں عقیدتمندوں، علاقہ کے ضرورت مندوں میں سماجی فاصلہ اور حکومت کے ذریعے عائد کردہ پابندیوں پر عمل کرتے ہوئے لنگر، سینیٹائزر، ماسک، ویٹامن سی کی ادویات تقیسم کی گی۔ تقریبات میں خانقاہ پر چند مخصوص افراد نے ذکر واذکار کی مجالس میں شرکت کی جبکہ گزشتہ ہر سال ممبئی و مضافات، مہاراشٹر کے دیگر علاقوں، اترپردیش و دیگر ریاستوں سے منصور میاں کے مریدین و معتقدین عرس کے تقریبات میں شرکت کے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں آتے تھے چونکہ امسال کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافد کیا گیا ہے اور مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے اس لیے اس سال سادگی سے چند افراد کی موجودگی میں عرس منایا گیا۔ صوفی عبدالنعیم عطاء شاہ ابوالعلائی نے بتایا کہ میرے پیر و مرشد صوفی منصور میاں نے اسلام ،امن وبھائی چارہ کا درس دے کر انسانیت کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لایا اور تصوف کا درس دیا ہے تصوف کا آئینہ خالق اور مخلوق کے تعلق کی بنیاد ہے یہ وہ راستہ ہے کہ انسان کا اسکے خالق سے رشتہ استوار کرتا ہے۔ رضاۓ الہی اور محبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کا بہترین ذریعہ اولیاء کرام کی نسبت ہے۔ ان کے ذریعے دینی رہنمائی کا کام ساری زندگی ہوتا رہا اور 1996 میں آپ اس دار فانی سے عالم جاودانی کی جانب کوچ فرما گئے۔
خانقاہ منصوریہ میں درود و ختمات و تلاوت قران شریف، ذکر و اذکار کی مجالس منعقد ہوئیں۔ خلیفہ منصور میاں حضرت عبدالنعیم عطاء شاہ صاحب قبلہ کی سرپرستی میں خانقاہ منصوریہ پر عرس کے سلسلے میں قل شریف، ذکر واذکار، قرآن خوانی، غرباء و مساکین میں تقسیم لنگر و دیگر تقریبات انجام پائی۔ قل شریف کے بعد نعیم میاں نے دعاء خیر فرمائی اس موقع پر ملک و ریاست میں امن وسلامتی اور کورونا وائرس سے حفاظت کے لئے بھی دعا کی گئی۔ اس موقع پر نعیم میاں کے فرزندان حافظ سلطان صلاح الدین خان، نورالدین خان و معین الدین خان بھی موجود تھے۔ عیاں ہوں کہ لاک ڈاؤن کے اس مشکل وقت میں صوفی نعیم میاں نے ممبئی، تھانے، بھیونڈی اور مضافات میں ضرورت مندوں اور وابستگان سلسلہ کو مسلسل اناج، اشیاء ضروریات، عید کے موقع پر کپڑے و دیگر ضروری اشیاء بلا تفریق مذہب و ملت تقریباً پانچ ہزار افراد میں تقسیم کی اور راشن اور رمضانی کٹ ضرورتمند خاندانوں تک اپنے رضاکاران کے ذریعہ پہنچائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خدمتِ انسانیت ایک عظیم کارِ ثواب ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے اور بے سہاروں کو سہارا دینے کو دنیا کے ہر مذہب نے عبادت کا درجہ دیا ہے۔ مذہبِ اسلام میں تو یہ عظیم ترین کارِ ثواب قرار دیا گیا ہے۔ اس کی اسی اہمیت و فضیلت کو مدنظر رکھتے ہوئے خانقاہ منصوریہ، ممبئی کے ذمہ داروں نے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے دو تین دن بعد سے ہی اب تک ہزاروں بھوکے اور بے سہارا لوگوں کے کھانے پینے کا بہترین انتظامات کیے اور اپنے جذبہِ خدمت انسانیت وجذبہ خدمت خلق خدا کے تحت بلا اختلافِ مذہب وملت اور بلاتفریق مسلم و غیر مسلم لوگوں کی بھوک مٹانے میں ہمہ تن کوشاں رہے۔ یہ کام ہم سب نے کسی صلہ و ستائیش کی تمنا کے بغیر محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے انجام دیا اور مستقبل میں یہ سلسلہ خیربیوگان اور ضرورت مندوں کو راشن پہنچانے کا کام جاری رکھنے کا نیک ارادہ اور پاکیزہ عزم ہے اللہ مدد کرے۔ اسی طرح رمضان سے دودن قبل عیدی تحفہ کے نام سے پانچ سو سے زائد افراد کو عید کے دن ضروری اشیائے خوردونوش پر مشتمل سوئیں، شکر، میوہ جات اور عید کے کپڑے وغیرہ بھی ممبئی و مضافات میں رضاکاروں کے ذریعہ گھر گھر پہنچائے گئے، عید الفطر کے موقع پر عید کے دن نان فیملی بے سہارا بھائیوں کے لئے بہترین کھانا پینا اور سوئیں وغیرہ مہیا کرایا گیا۔ انہوں نے رضاکاران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کارِ خیر میں رضاکاران نے رات دن ایک کیا اوراپنی نیندیں قربان کرکے اس مشن کی کامیابی بنیادی ذریعہ ثابت ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ ان سبھوں کو جزاے خیر عطا کرے اور ہم سب کو للہیت کی توفیق دے-