قومی تنظیم کے ممبران خود کو معاشرے کیلئے نفع بخش بنائیں! نفرت کا مقابلہ صرف محبت اور رواداری ہی سے کیا جاسکتا ہے: مہاراشٹر پردیش قومی تنظیم کی ورچوئل میٹنگ میں طارق انور کا اظہار خیال

قومی تنظیم کے ممبران خود کو معاشرے کیلئے نفع بخش بنائیں!
نفرت کا مقابلہ صرف محبت اور رواداری ہی سے کیا جاسکتا ہے: مہاراشٹر پردیش قومی تنظیم کی ورچوئل میٹنگ میں طارق انور کا اظہار خیال
(پریس ریلیز) : اقلیتی کمیشن کے سابق صدر مناف حکیم کی ایما پر مہاراشٹرا پردیش قومی تنظیم کی ورچوئل میٹنگ منعقد کی گئی جس میں خطاب کرتے ہوئے ، آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی صدر اور سابق مرکزی وزیر طارق انور نے ، ملک میں فرقہ پرستوں کے ذریعہ پیدا شدہ صورتحال کو ملک اور معاشرے کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو پھر سے گاندھیائی راہ پر واپس لانا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے کہ ہمارے کچھ ساتھی بھی فرقہ پرستوں کے معاون ہیں ۔ انہوں نے اسدالدین اویسی کی زیرقیادت مجلس اتحاد المسلمین کا نام لیتے ہوئے کہا کہ مجلس نے جس طرح سے بہار میں فرقہ پرست طاقتوں کو فائدہ پہنچا یاہے اور جس طرح سے وہ بنگال اور پھر یوپی میں فرقہ پرست طاقتوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کوشاں ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔
مسٹرطارق انور نے کہا کہ بی جے پی ممبر پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے بھی قبول کیا ہے کہ مجلس بی جے پی کی مدد کررہی ہے، لیکن اس کے باوجود مجلس کے لوگ فرقہ پرست طاقتوں کو مضبوط بنانے کے لئے بے چین ہیں۔ طارق انور نے کہا کہ فرقہ واریت ، خواہ وہ اکثریت سے ہو یا اقلیت سے ، دونوں ہی ملک کے لئے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ مسلمان اکھٹے ہوجائیں تو ہندو مہاسبھا اور سنگھ پریوار کو اس سے زیادہ طاقت ملتی ہے اور وہ ہندو بھائیوں کو اکٹھا کرنے کے نعرے کو تیز کردیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ طاقتیں ملک میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی لکیر کھینچنا چاہتی ہیں اور وہ ہندو اور مسلمان دونوں کو الگ الگ کرنے کی خواہاں ہیں۔ مسٹر انور نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ قومی تنظیم کے پلیٹ فارم سے فرقہ پرست طاقتوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے ملک کے مسلمانوں سے اپنے اندر سیاسی سوجھ بوجھ لانے کی اپیل کی اور کہا کہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کون ملک اور آئین کے مفاد میں کام کر رہا ہے اور کون ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سیکولر طاقتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے طارق انور نے کہا کہ ہمیں سیکولر طاقتوں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا تاکہ فرقہ وارانہ طاقتیں تنہا پڑ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ادارہ تنہا فرقہ پرستی کا مقابلہ نہیں کرسکتا ، لہذا وہ تمام افراد جو ملک کے آئین ، نہرو گاندھی اور امبیڈکرائٹ آئیڈیالوجی پر یقین رکھتے ہیں ان کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔
انہوں نے قومی تنظیم کے ممبروں سے اپیل کی کہ ہمیں خود کو آگے لانا ہو گا اور خود کو ملک کیلئے سود مند بنانا ہوگا ، تاکہ لوگ خود بھی قومی تنظیم کے ساتھ وابستہ ہوں اور انہیں قومی تنظیم کے بارے میں بتانا نہ پڑے بلکہ وہ ہمارےکام سے واقف ہوں ۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم زمینی سطح پر مضبوط ہوں ۔طارق انور نے ضلع اور بلاک سطح پرقومی تنظیم کو مضبوط بنانے کی بات بھی کہی۔
اس موقع پر مہاراشٹرا پردیش قومی تنظیم کے صدر ، مناف حکیم نے ریاست مہاراشٹر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں جس طرح مہاراشٹر میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے میں مصروف ہیں وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے قومی تنظیم کے قومی صدر جناب طارق انور کو یقین دلایا کہ وہ مہارشٹر بھر میں ہر سطح پر قومی تنظیم کو مضبوط بنائیں گے تاکہ فرقہ پرست قوتوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ مناف حکیم نے کہا کہ کورونا جیسی وبا اور لاک ڈاؤن کے المناک ماحول کے درمیان ، مہاراشٹر میں مقیم ضروتمند لوگوں کی جس طرح قومی تنظیم نے مدد کی ہے ،اس سے ریاست کے افسران اور عوام دونوں مطمئن ہیں اور سرکاری اور عوامی سطح پر اس کی ستائش بھی ہوئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں ہم اسے دستاویز کی شکل میں ملک اور دنیا کے سامنے لائیں گے۔ اس موقع پر کوکن ریجن کے صدر آفتاب شیخ، ودربھ ریجن کے صدر عاصم علی، ویسٹرن مہاراشٹر ریجن کے صدر حاجی ذاکر شیخ، سابق کارپوریٹر رفیق شیخ (پترکار)، ممبئی سے نسیم میٹھا اور بلقیس شیخ، نارتھ مہاراشٹر سے مقتدر دیشمکھ سمیت متعدد ممبران نے ورچوئل میٹنگ میں خطاب کیا اور تمام نے یقین دلایا کہ ہم ہر سطح پر قومی تنظیم کو مضبوط بنائیں گے اور ہر سطح پر لوگوں کی مدد کریں گے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading