غزہ کی پٹی میں بھوک کے سبب اب تک 100 سے زیادہ بچے فوت ہو چکے ہیں : اقوام متحدہ

غزہ میں وزارت صحت کے حکام کے اعلان کے مطابق اکتوبر 2023 کی جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ کی پٹی میں غذائی قلت کی وجہ سے 100 سے زائد بچے انتقال کر چکے ہیں۔ اس اعلان کے بعد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ذمے داران نے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوچا) نے پیر کے روز کہا کہ غزہ میں بچوں کی اموات کی تعداد کا ایک سو سے تجاوز کر جانا "ایک تباہ کن مرحلہ ہے جو دنیا کے لیے شرمندگی کا باعث ہے اور دیرینہ ضروری فوری اقدامات کا تقاضا کرتا ہے”۔ یہ بات جرمن نیوز ایجنسی نے بتائی۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام عالمی خوراک پروگرام نے بتایا ہے کہ 3 لاکھ سے زائد بچے شدید خطرے میں ہیں، اور غزہ کی آبادی کے ایک تہائی سے زائد افراد نے کئی دن سے کھانا نہیں کھایا۔

اس دوران واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں بنیادی غذائی ضروریات کے لیے ماہانہ 62 ہزار ٹن سے زیادہ خوراک درکار ہے، مگر ابھی تک اتنی مقدار میں خوراک فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جو تقریبا بیس لاکھ لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے کافی ہو۔

اوچا نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے اتوار کو کرم ابو سالم گزرگاہ سے کچھ خوراک، ایندھن اور دیگر اشیاء بشمول صفائی کے سامان، جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی، مگر یہ سامان گاڑیوں کے منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی اتار دیا گیا۔

دفتر نے بتایا کہ ایندھن بھی اسی گزذرگاہ سے داخل ہوا، مگر اسرائیلی حکام روزانہ اوسطاً 1.5 لاکھ لیٹر ایندھن کی اجازت دیتے ہیں، جو زندگی بچانے والے آپریشنوں کے لیے کم از کم ضروری مقدار سے بہت کم ہے۔

مذاکرات میں تعطل

یاد رہے کہ 27 جولائی کو حماس نے غزہ کی پٹی پر جاری محاصرے کے دوران اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے فائدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے تل ابیب کے وفد کو دوحہ سے واپس بلانے کا حکم دیا تھا، جہاں جون 6 سے کئی مذاکراتی دور جاری تھے تاکہ تنازع کا حل نکالا جا سکے۔

اسی طرح امریکہ نے بھی دوحہ سے مذاکرات کاروں کو واپس بلا لیا۔ یہ اقدام جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے امریکہ کے ترمیم شدہ مجوزہ منصوبے پر حماس کے جواب کے بعد سامنے آیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading