غزہ پر اسرائیل کی کارروائی میں تیزی اور شہر سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے درمیان بین الاقوامی تنقید کے باوجود اسرائیلی حکام نے حملے کی شدت بڑھا دی ہے۔
وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے کہا ہے کہ "فوج غزہ کو تباہ کر دے گی” اور یہ حماس کے قبرستان کا گواہ بنے گا۔ اسرائیلی وزیر کے مطابق اگر حماس نے تمام قیدی آزاد نہ کیے اور اپنے ہتھیار نہیں ڈالے تو فوجی کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کی شدت جتنی بڑھے گی حماس کی فوری شکست اور قیدیوں کی رہائی کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ انھوں نے فورسز کو "تمام وسائل پوری قوت سے استعمال کرنے” اور ساتھ ہی فوجی جوانوں کی حفاظت کو اولین ترجیح رکھنے کا حکم دیا۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے جنوبی کمانڈ اور فیلڈ کمانڈروں کے ساتھ غزہ کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ "آپ کی ذمہ داری حماس کو شدید نقصان پہنچانا اور "غزہ شہر بریگیڈ” کو شکست دینا ہے تاکہ دو سب سے اہم کام ممکن ہو سکیں … یعنی قیدیوں کی واپسی اور حماس کی عسکری و حکومتی صلاحیتوں کا خاتمہ”۔ زامیر نے جنگی کارروائیوں کی ضابطہ بندی اور منظم نفاذ پر زور دیا۔
اسرائیلی فوجی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ غزہ شہر میں زمینی مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ شہر میں حماس کے تقریباً تین ہزار جنگجو موجود ہیں اور زمینی فورسز شہر کے اندر گہرائی تک پیش قدمی کر رہی ہیں۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی کہا کہ "ہم نے غزہ میں ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کر دی ہے”۔
اس دوران فلسطینی شہری جنوب کی جانب ہجرت کر رہے ہیں، حالانکہ محفوظ پناہ گاہیں دستیاب نہیں۔