
سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں فائر بندی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یہ موقف جنگ بندی کے آغاز کے چوتھے روز سامنے آیا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے باور کرایا ہے کہ غزہ میں فائر بندی کے تحفظ کی ذمے داری خطے میں سب پر عائد ہوتی ہے۔
انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ مضبوطی سے قائم رہے گا۔
امریکی، مصری اور قطری وساطت سے طے پانے والا فائر بندی کا یہ معاہدہ اتوار سے نافذ العمل ہو چکا ہے تاہم اس کے ٹوٹنے کے اندیشے بھی موجود ہیں
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل واضح کیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی قائم رہنے کے حوالے سے پر اعتماد نہیں ، اگرچہ با خبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ یہ بات انگریزی اخبار پولیٹیکو نے بتائی۔
یاد رہے کہ 15 ماہ تک جاری تباہ کن جنگ اور بھرپور کوششوں کے بعد طے پانے والا یہ معاہدہ 3 مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں غزہ میں اکتوبر 2023 سے یرغمال 33 اسرائیلیوں کو حوالے کیا جانا ہے جس کے مقابل سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
حماس تنظیم اتوار کے روز تین اسرائیلی خواتین کو واپس کر چکا ہے جب کہ اسرائیل نے اپنی جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کر دیا۔
اس وقت غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے غذا اور طبی امداد پر مشتمل ٹرکوں میں سے بہت کم تعداد کو تباہ حال غزہ کی پٹی میں جانے کی اجازت دی تھی۔