عالمی کورونا بلیٹن: چینی شہر ووہان میں لاک ڈاؤن ختم ۔ امریکا میں کووڈ انیس کے مریضوں کی تعداد چار لاکھ – ترکی میں کورونا وائرس، صدر ایردوآن تنقید کی زد میں: تقریبا 34 ہزار افراد متاثر ہو

ترکی میں کورونا وائرس، صدر ایردوآن تنقید کی زد میں

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کی خاطر حکومتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ملک کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن نہیں کیا جائے گا۔ اس بات پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

ترکی میں اجتماعات پر پابندی ہے لیکن تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ترکی میں اس عالمی وبا کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 725 ہے جبکہ تقریبا 34 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ترک حکومت نے اگر لاک ڈاؤن نہ کیا تو صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔

ووہان میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا

چینی شہر ووہان میں دو ماہ سے زائد عرصے جاری لاک ڈاؤں آج بدھ کے روز ختم کر دیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا اسی شہر سے شروع ہوئی تھی۔ گیارہ ملین سے زائد آبادی والے اس شہر میں وائرس سے پچاس ہزار سے زائد افراد متاثر جب کہ ڈھائی ہزار سے زائد ہلاک ہوئے۔ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران تاہم اس شہر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی۔

لاک ڈاؤن ختم کیے جانے کے بعد ووہان کے ہوائی اڈے سے دس ہزار سے زائد مسافر دیگر علاقوں کی جانب روانہ ہوئے۔ چین بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ 62 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، مریضوں اکثریت بیرون ملک سے آنے والے افراد کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کے لیے امریکی امداد روکنے کی دھمکی دی ہے۔ جرمنی میں مریضوں کی سرکاری تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین تفصیلات اس لائیو آرٹیکل میں

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ عالمی ادارے کا جھکاؤ چین کی طرف ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے چین کے شفاف طرز عمل کی تعریف کی تھی۔ تاہم امریکا سمیت کئی ممالک چین میں ہلاکتوں کی تعداد پر شک و شبے کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

دوسری جانب امریکا میں کووڈ انیس کے مریضوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اب تک 13 ہزار کے قریب امریکی شہری ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

جرمنی میں ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ گئی

جرمنی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید چار ہزار افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے ہیں۔ یوں اس ملک میں اس عالمی وبا کی زد میں آنے والے افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سات ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس دورانیے میں نئی ہلاکتوں کی تعداد 254 رہی۔

جرمنی میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ دوسری طرف ملکی سیاستدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس مخصوص وقت میں دائیں بازو کے انتہا پسند ان حالات کو اپنے مقاصد کی خاطر استعمال کر سکتے ہیں۔

کورونا سے متاثرہ یورپی ممالک کے لیے مالی امداد کی کوشش

یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کورونا وائرس کی وجہ سے شدید متاثر ہونے والے ممالک کے لیے بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دینے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اٹلی نے اصرار کیا ہے کہ وہ ‘کورونا بانڈز‘ کے اپنے منصوبے کو ترک نہیں کرے گا۔

یورو گروپ کے صدر ماریو سینتینو نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ سولہ گھنٹے کے مذاکرات کے بعد رکن ممالک ایک ڈیل کو حتمی شکل دینے کے قریب آ گئے لیکن اسے فائنل نہ کر سکے۔ بتایا گیا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہے گا۔ کوشش ہے کہ یورپی یونین ایسے ممالک کو مالی مدد فراہم کرے، جو اس عالمی وبا کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

جانسن نے دوسری رات بھی انتہائی نگہداشت یونٹ میں بسر کی

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے مسلسل دوسری رات بھی انتہائی نگہداشت یونٹ میں بسر کی ہے۔ نئے کورونا وائرس کا شکار ہونے والے جانسن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کی حالت تسلی بخش ہے۔ وہ نمونیا کا شکار نہیں ہوئے اور نہ ہی انہیں مصنوعی تنفس کی ضرورت ہے۔

اس عالمی وبا کی وجہ سے برطانیہ میں 55 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ چھ ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جانسن ستائیس مارچ کو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جبکہ اتوار پانچ اپریل کو انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ٹوئٹر کے سربراہ کا ایک بلین ڈالر فنڈ کا اعلان

ٹوئٹر کے سی ای او جیک ڈورسی نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے ایک بلین ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم جیک ڈورسی کی مجموعی آمدن کا اٹھائیس فیصد بنتی ہے۔

انہوں نے سٹارٹ سمال نامی چیرٹی فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وبا کے خاتمے کے بعد یہ فنڈ لڑکیوں کی صحت سمیت دیگر فلاحی کاموں کے لیے کام جاری رکھے گا۔ ڈورسی نے یہ بھی بتایا کہ سٹارٹ سمال کے تمام عطیات کی تفصیلات آن لائن عوامی طور پر دستیاب ہوں گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading