طلبہ کی غذائیت پر سیاست!
مڈ ڈے میل میں انڈے بند کرنے کے خلاف ڈاکٹر جتیندر اوہاد کا انوکھا احتجاج
تھانے (آفتاب شیخ)
راشٹروادی کانگریس پارٹی – شرد پوار گروپ کے قومی جنرل سکریٹری اور قانون ساز پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر جتیندر اوہاد نے اسکولی طلبہ کو مڈ ڈے میل میں انڈے فراہم کرنے کی بندش کے خلاف انوکھے انداز میں احتجاج درج کرایا۔ انہوں نے تھانے ضلع کلکٹر اشوک شنگارے کو انڈے پیش کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے فیصلے پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔
ڈاکٹر اوہاد نے الزام لگایا کہ حکومت نے بجٹ کا بہانہ بنا کر طلبہ کی غذائیت سے سمجھوتہ کیا ہے، جبکہ محض 50 کروڑ روپے سالانہ میں انہیں ضروری پروٹین مہیا کیا جا سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کسی خاص طبقے کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جس سے غریب بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثر پڑے گا۔
واضح رہے کہ 1995 میں شروع کی گئی مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ نومبر 2024 میں ریاستی محکمۂ تعلیم نے ہفتے میں ایک دن طلبہ کو انڈے یا کیلا دینے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اب حکومت نے اچانک انڈے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس سے بچوں کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس فیصلے کے خلاف احتجاج میں ڈاکٹر جتیندر اوہاد کی قیادت میں این سی پی کارکنان نے تھانے کے ضلع کلکٹر کو میمورنڈم پیش کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے ضلع صدر سہاس دیسائی، کارگزار صدر پرکاش پاٹل، خواتین ضلع صدر سجاتا گھاگ، خواتین کارگزار صدر سریکھا پاٹل، او بی سی سیل کے صدر گجانن چودھری، میڈیکل سیل کے صدر اسد چاؤس، سیوادل کے صدر کلوندر سنگھ سوکھی، یوتھ جنرل سکریٹری راجیش کدم، ایڈمنسٹریشن جنرل سکریٹری راجیش ساٹم اور کئی سرکردہ لیڈران موجود تھے۔
ڈاکٹر اوہاد نے حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا،
"جب حکومت 200 کروڑ روپے ‘لاڈلی بہن’ کے اشتہار پر خرچ کر سکتی ہے تو 50 کروڑ روپے بچوں کی غذائیت کے لیے کیوں نہیں دیے جا سکتے؟ یہ شرمناک اور ناقابل قبول ہے!"
ضلع کلکٹر اشوک شنگارے نے یقین دلایا کہ وہ معاملہ حکومت کے سامنے پیش کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتی ہے یا نہیں۔