اندور: کانگریس کے سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر جیوتیرادتیہ سندھیا نے ’شہریت ترمیمی بل 2019‘ کی مخالفت کرتے ہوئے آج کہا کہ یہ ہندوستان کی ثقافت کے خلاف ہے۔
سندھیا یہاں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے لوک سبھا میں پاس ہونےو الے بل پر رد عمل کا اظہار کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ثقافت ہمیشہ تمام مذاہب، طبقوں کے عوام کو اپنے میں سمونے کی رہی ہے لیکن یہ بل اس کے مخالف ہے جس کے سبب شمال۔مشرق کی ریاستوں میں اس کی مخالفت ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض کانگریس ہی نہیں دیگر کئی سیاسی پارٹیاں بھی اس کی مخالفت میں کھل کر سامنے آرہے ہیں۔
#CAB2019 संविधान की मूल भावना के ख़िलाफ़ है,भारतीय संस्कृति के विपरीत भी है। अंबेडकर जी ने संविधान लिखते समय किसी को धर्म, जात के दृष्टिकोण से नहीं देखा था।भारत का इतिहास रहा है कि हमने सभी को अपनाया है- वासुदेव कुटुंबकम भारत की विशेषता है।धर्म के आधार पर पहले कभी ऐसा नहीं हुआ।
— Jyotiraditya M. Scindia (@JM_Scindia) December 11, 2019
کانگریس کے سینیئر رہنما نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی جانب سے ریاستوں کے حصے کے بطور دی جانے والی رقم اور مختلف مدوں میں دی جانے والی رقم باضابطہ طور پر ریاستوں کو نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہی نہیں پنجاب اور مہاراشٹر کی ریاستی حکومتیں طویل عرصے سے آواز بلند کر رہی ہیں کہ مرکز ان کے تئیں مایوس کن رویہ اختیار کر رہا ہے۔
سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ جی ایس ٹی نافذ کرنے سے قبل حکومتِ ہند نے تمام ریاستوں کو یقین دلایا تھا کہ آئندہ پانچ سالوں تک ریاستوں کو دی جانے والی ان کے حصے کی رقم کا محفوظ انتظام کر رکھا ہے لیکن ایک جانب مرکز نے ہر تین ماہ میں دی جانے والی جی ایس ٹی کی محصولاتی رقم کو روک رکھا ہے وہیں دوسری جانب ریاستوں کو کئی منصوبوں کے تحت ملنے والی رقم بھی کافی عرصے سے زیر التواء ہے۔
سندھیا نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ہونے والی زیادہ بارش اور اولا گرنے کی وجہ سے ہونےو الے نقصانات کے عوض بھی اب تک مرکز نے کم از کم ایک ہزار کروڑ روپیے کی رقم ادا کی ہے جبکہ مرکز میں جب کانگریس کی حکومت تھی، تب مدھیہ پردیش کو کافی تعاون فراہم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک معاشی کساد بازاری کے دور سے گزر رہا ہے۔ انہی تمام مسائل کے سلسلے میں 14 دسمبر کو دہلی میں ایک عظیم ریلی کا انعقاد کیا جائے گی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
