شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے الزام میں جامعہ کا طالب علم میران حیدر گرفتار

نئی دہلی۔ شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کی سازش کے الزام میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک ریسرچ اسکالر میران حیدر کو دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے گرفتار کیا ہے۔ میران راشٹریہ جنتا دل کی طلبہ یونٹ کا رکن بھی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے ایم پی منوج جھا نے ٹوئیٹ کر کہا کہ بات بالکل صاف ہے، دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے جامعہ تحقیقات کے معاملے میں میران کو ’بات چیت‘ کے لئے بلایا تھا۔ پوچھ گچھ کے بعد گھر واپس بھیجنے کی بات تھی، پھر ’اوپر‘ سے کوئی حکم آیا اورکورونا وائرس کی جنگ میں لوگوں کی مدد کرنے والے میران حیدر کی گرفتاری ہو جاتی ہے۔ انہوں نے میران کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دہلی پردیش یوتھ آر جے ڈی کے صدر ارون کمار یادو نے کہا کہ میران کی گرفتاری انتہائی قابل مذمت ہے۔ اس بحران کی گھڑی میں بہار کے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی ہدایت کے مطابق مسلسل وہ دہلی میں پھنسے بہار کے لوگوں کی مدد میں مصروف تھے۔ دہلی پولیس کا آمرانہ رویہ جمہوریت کے لئے افسوسناک ہے۔جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی (جے سی سی) نے بھی میران کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اوپر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ جے سی سی نے بیان جاری کرکے کہا کہ پولیس نے میران کو یکم اپریل کو لودھی روڈ پر واقع اسپیشل سیل کے دفتر پہنچ کر تحقیقات میں شامل ہونے کا نوٹس دیا تھا لیکن چند گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد اسے گرفتار کر لیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading