مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما گری راج سنگھ نے شاہین باغ میں ہو رہے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ پر متنازعہ بیان دیا ہے، انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ تحریک نہیں رہی، وہاں خودکش حملہ آور بنائے جا رہے ہہں، شاہین باغ اب صرف تحریک نہیں رہ گئی ہے، بلکہ یہاں خودکش حملہ آوروں کا ایک گروہ بنایا جا رہا ہے، ملک کی دارالحکومت میں ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔
यह शाहीन बाग़ अब सिर्फ आंदोलन नही रह गया है ..यहाँ सूइसाइड बॉम्बर का जत्था बनाया जा रहा है।
देश की राजधानी में देश के खिलाफ साजिश हो रही है। pic.twitter.com/NoD98Zfwpx— Shandilya Giriraj Singh (@girirajsinghbjp) February 6, 2020
معاملہ طول پکڑنے کے بعد گری راج سنگھ نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ میں ایک خاتون کا بچہ سردی سے مر جاتا ہے اور وہ عورت کہتی ہے کہ میرا بیٹا شہید ہوگیا، خودکش حملہ آور نہیں ہے تو کیا ہے؟ اگر ہندوستان کو بچانا ہے تو ان خودکش حملہ آور اور خلافت تحریک سے ملک کو چوکنا رہنا ہوگا۔
Union Minister Giriraj Singh:Shaheen Bagh mein ek mahila ka bachcha thand mein mar jaata hain aur vo mahila kehti hain ki mera beta shaheed hua hain. Ye suicide bomb nahi hai to kya hai? Agar Bharat ko bachana hai to ye suicide bomb, Khilafat Andolan-2 se desh ko sajak karna hoga pic.twitter.com/Y2UuGG3ei2
— ANI (@ANI) February 6, 2020
اس سے پہلے شہریت ترمیمی قانون کو لے کر ملک بھر میں چل رہی مخالفت پر گری راج سنگھ کا متنازعہ بیان سامنے آیا تھا۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا تھا کہ وہ پاکستان پرست ہیں وہ صرف روہنگیا مسلمانوں اور پاکستانی مسلمانوں کو شہریت دینا چاہتی ہے۔
بتا دیں کہ گزشتہ روز بدھ کو لوک سبھا میں بی جے پی کے رہنما تیجسوی سوریہ نے کہا تھا کہ دہلی کے شاہین باغ میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ اگر اس ملک کا اکثریتی طبقہ محتاط نہیں رہا اور محب وطن ہندوستانی نے کھل کر ساتھ نہیں دیا تو تو وہ دن دور نہیں جب دہلی میں مغل راج ہوگا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو