دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کے مظاہرہ کو چلتے ہوئے لگ بھگ دو مہینے ہو گئے ہیں اور اس مظاہرہ نے عالمی شہرت حاصل کر لی ہے۔ اس مظاہرہ کو ہٹانے کے لئے کچھ لوگوں نے عدالت کا دروازہ کھٹ کھٹایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کے علاقہ کے عوام کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے مظاہرہ کو سڑک سے ہٹا دیا جائے ۔یہ عرضیاں ی عدالت میں وکیل امت ساہنی اور بی جے پی رہنما نند کشور گرگ نے داخل کی ہیں جن پر سنوائی آج صبح 11.45 پر ہوگی۔
جمع کو ان عرضیوں پر جسٹس سنجے کشن کول اور کے ایم جوسف کی عدالت میں سنوائی ہوئی تھی اور سنوائی کے دوران امت ساہنی نے کہا تھا ’’لگ بھگ دو مہینے سے یہ مظاہرہ جاری ہے جس کی وجہ سے کالندی کنج کے راستے نوئیڈا کو جانے والا راستہ بند ہے اور لوگوں کو اس کی وجہ سے بہت پریشانی ہو رہی ہے۔‘‘ اس پر بینچ کی قیادت کر رہے جسٹس کول نے کہا تھا ’’ہم سمجھ سکتے ہیں کہ لوگوں کو بھاری دقت کا سامنا ہے لیکن اس معاملہ کی سنوائی پیر کو ہوگی۔‘‘
یہ سب کو معلوم ہے کہ دہلی انتخابات میں شاہین باغ کو انتخابی مدا بنایا گیا تھا اور بی جے پی نے پوری کوشش کی کہ انتخابات اس مدے پر ہی ہوں ۔ ادھر عام آدمی پارٹی اور کانگریس اس مدے پر چناؤ لڑنے سے بچ رہی تھیں اور ان کی کوشش تھی کہ انتخابات دہلی کے مقامی مدوں پر ہوں۔ اب جو ایگزٹ پول کے رجحانات سامنے آئے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عام آدمی پارٹی بھاری اکثریت سے انتخابات جیت رہی ہے ۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو