اورنگ آباد:(شہاب مرزا) کسی بھی ضرورت مند مریض کو خون عطیہ کرنا صدقہ جاریہ میں شمار ہوتا ہے، جبکہ کسی دوسرے انسان کی مدد سے قدرت الٰہی کی جانب سے قلبی سکون و راحت حاصل ہوتی ہے اور انسان ہر قسم کی آفات اور محرومیوں سے نجات پاتا ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ خون عطیہ کرنے سے انسان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں
جبکہ یہ بات بالکل درست نہیں۔ ہر تندرست انسان کے بدن میں تقریباً ایک لیٹر (یعنی دو سے تین بوتلیں) اضافی خون ہوتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہر تندرست انسان کو سال میں کم از کم دو مرتبہ خون کا عطیہ ضرور د ینا چاہیے اسی مقصد کے تحت دہلی شاہین باغ طرز پر جاری اورنگ آباد شاہین باغ زنجیری احتجاج میں آج عطیہ خون کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا اس سے ایک پیغام انسانیت کے نام سے پر عمل کرتے ہوئے مانو سکی ساموہ متر منڈلی، گلوبل میڈیکل فاونڈیشن، کی جانب سے اور اورنگ آباد شاہین باغ کمیٹی کے اشتراک سے عطیہ خون کیمپ رکھا گیا تھا جسمیں 183 افراد نے خون کا عطیہ دیکر انوکھا احتجاج کیا
منتظمین کا کہنا ہے کہ حکومت کتنا بھی مذاہب کے نام پر بانٹنے کی کوشش کریں ہم انسانیت اور بھائی چارے کا پیغام دیں گے خدمت خلق وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اور خون دیکر دوسروں کی جان بچانا ایک اہم خدمت اور حقیقی انسانیت ہے۔عوام کو چاہیئے کہ خدمت خلق کے میدان میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیں اس کیمپ کو کامیاب بنانے کے لیے کمیٹی کے احمد جلیس، باسط صدیقی، یاسر صدیقی، شہاب مرزا ،ناصر جوہری ،طاہر قادری نے جدوجہد کی