شادی کے بعد Ex سے ایک بار ملنا گناہ نہیں… لیکن بیوی کی اس بڑی غلطی پر عدالت نے طلاق کی منظوری دے دی

چنڈی گڑھ: Punjab and Haryana High Court نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ شادی کے بعد کسی خاتون کا اپنے سابق محبوب (Ex) سے صرف ایک بار ملنا زنا (Adultery) یا ازدواجی بے وفائی ثابت نہیں کرتا، اور نہ ہی صرف اسی بنیاد پر طلاق دی جا سکتی ہے۔

یہ معاملہ بھارتی بحریہ کے ایک اہلکار اور اس کی اہلیہ سے متعلق تھا۔ شوہر نے الزام لگایا تھا کہ بیوی شادی کے بعد بھی اپنے سابق دوست کے رابطے میں تھی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ کسی سابق تعلق یا ایک مرتبہ ملاقات کو زنا کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔

البتہ عدالت نے یہ بھی پایا کہ بیوی نے شوہر اور اس کے اہلِ خانہ کے خلاف بغیر ثبوت کے جہیز ہراسانی کے الزامات لگائے اور اپنے سسر کے کردار پر بھی سنگین اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ عدالت کے مطابق ایسے جھوٹے اور ہتک آمیز الزامات ذہنی اذیت (Mental Cruelty) کے زمرے میں آتے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ طلاق کا فیصلہ سابق محبوب سے ملاقات کی وجہ سے نہیں بلکہ بیوی کی جانب سے شوہر اور اس کے خاندان کے خلاف لگائے گئے جھوٹے اور غیر ذمہ دارانہ الزامات کی بنیاد پر درست تھا۔ اسی لیے فیملی کورٹ کے طلاق کے حکم کو برقرار رکھا گیا۔

اہم نکات:

سابق محبوب (Ex) سے ایک بار ملنا طلاق کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

شادی سے پہلے کا محبت کا رشتہ خود بخود زنا شمار نہیں ہوتا۔

شوہر یا سسرال والوں پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانا ذہنی اذیت تصور کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے طلاق بے وفائی نہیں بلکہ ذہنی اذیت کی بنیاد پر برقرار رکھی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading