دہلی ہائی کورٹ میں سینئر پولس افسر کو کیا گیا طلب، 12.30 بجے کا وقت طے
دہلی ہائی کورٹ نے سی اے اے-این آر سی معاملہ پر شمال مشرقی دہلی میں تشدد میں شامل لوگوں کے خلاف کیس درج کر انھیں گرفتار کرنے کی گزارش کرنے والی عرضی پر بدھ کو سماعت کی۔ ہائی کورٹ نے دہلی پولس کمشنر کو نوٹس جاری کیا ہے اور سرکار کے وکیل سے بدھ کی دوپہر 12.30 بجے عدالت میں سینئر پولس افسر کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے کہا ہے۔
دراصل حقوق انسانی کارکن ہرش مندر اور فرح نقوی کی جانب سے داخل عرضی میں تشدد واقعہ کی عدالتی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دیے جانے اور تشدد میں زخمی لوگوں کو معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں فوج تعینات کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی پر جسٹس جی ایس سیستانی اور جسٹس اے جے بھمبھانی کی بنچ نے سماعت کی۔
Delhi High Court issues notice to Delhi Police and asks senior officials to remain present in the court in connection with a plea on violence in Delhi's North East district. #DelhiViolence pic.twitter.com/i6nvFKKBjb
— ANI (@ANI) February 26, 2020
تشدد میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر ہوئی 20، موج پور میں پولس نے کیا فلیگ مارچ
شمال مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق مہلوکین کی تعداد 20 ہو گئی ہے اور گرو تیغ بہادر (جی ٹی بی) اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ زخمی افراد کی حالت ہنوز سنگین بنی ہوئی ہے۔
اس درمیان تشدد سے بہت زیادہ متاثر شمال مشرقی دہلی کے موج پور علاقے میں سیکورٹی اہلکاروں نے آج صبح فلیگ مارچ کیا۔ علاقے میں امن و امان کا ماحول نظر آ رہا ہے اور پولس ذرائع کا کہنا ہے کہ آج صبح یہاں کسی بھی طرح کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔
Death toll in northeast Delhi violence rises to 20: GTB Hospital authorities
— Press Trust of India (@PTI_News) February 26, 2020
Delhi: Security personnel conducting flag-march in Maujpur area. #DelhiViolence pic.twitter.com/FBPpeVegm0
— ANI (@ANI) February 26, 2020
موج پور اور جعفر آباد میں اب نہیں ہو رہے مظاہرے، پولس سیکورٹی سخت
دہلی پولس اسپیشل کمشنر ستیش گولچا نے میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ جعفر آباد میٹرو اسٹیشن اور موج پور چوک سے سبھی مظاہرین واپس چلے گئے ہیں اور اب 66 فوٹا روڈ پوری طرح سے مظاہرین سے خالی ہو چکا ہے۔ جعفر آباد میٹرو اسٹیشن سے مظاہرین گزشتہ رات کو ہی واپس چلے گئے تھے اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے سبھی اسٹیشن پر آمد و رفت بحال کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
Delhi: Latest visuals from Jafrabad metro station. The protesters left the metro station last night. #NortheastDelhi https://t.co/VA0MyUsiJd pic.twitter.com/YjbRDjsMLY
— ANI (@ANI) February 26, 2020
شمال مشرقی دہلی میں کشیدگی برقرار، مہلوکین کی تعداد 17 پہنچی
شمال مشرقی دہلی میں تشدد کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی ہے۔ یہ اطلاع گرو تیغ بہادر (جی ٹی بی) اسپتال کے ذرائع نے دی۔ اسپتال سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج یعنی بدھ کی صبح کل 4 زندگیاں ختم ہو گئیں اور گزشتہ روز تک 13 لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس طرح سے مجموعی طور پر مہلوکین کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت اب بھی سنگین بنی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ منگل کے روز دن بھر بھجن پورہ، کھجوری، موج پور وغیرہ علاقوں میں تشدد کے واقعات رہ رہ کر ہوتے رہے۔ پتھر بازی، دکانوں میں توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کی تصویریں بھی سامنے آتی رہیں۔ پولس نے اس پر قابو پانے کے لیے کئی جگہ آنسو گیس کے گولے کا بھی استعمال کیا۔ بھجن پورہ اور کھجوری روڈ پر تو بڑی تعداد میں شرپسند عناصر ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سڑکوں پر نظر آئے۔ انھوں نے سڑک کے کنارے موجود دکانوں میں جم کر توڑ پھوڑ بھی کی۔
Guru Teg Bahadur (GTB) Hospital official: Today four persons were brought dead. Death toll rises to 17. #DelhiViolence pic.twitter.com/TJTmYuAD89
— ANI (@ANI) February 26, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو