-
جنوبی کوریا میں ہالووین بھگدڑ میں 120 افراد ہلاک، 100 زخمی (📸: اے ایف پی)
سیئول میں 29 اکتوبر کی رات کو، 100,000 سے زیادہ لوگ ہالووین ویک اینڈ منانے کے لیے Itaewon کے پڑوس میں جمع ہوئے۔ مشتبہ ہجوم کے اضافے کی وجہ سے، 140 سے زیادہ لوگوں کے دل کا دورہ پڑنے کی اطلاع ہے۔ CPR حاصل کرنے والے زخمی افراد کی فوٹیج سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔
🔴SUIVI – #CoréeDuSud : Le bilan aurait augmenté,il y aurait désormais au moins 80 morts après une bousculade lors d’une fête d’#Halloween à #Seoul. #Itaewon #이태원 #이태원사고 #압사사고 pic.twitter.com/4K388s86a2
— FranceNews24 (@FranceNews24) October 29, 2022
سیول:حکام نے بتایا کہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے ایک اہم بازار میں بھگدڑ مچنے سے کم از کم 140 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے، جہاں ہیلووین کے تہوار کے لیے ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔
پولیس اور فائر مین کو تنگ گلیوں میں افراتفری کے درمیان دل کا دورہ پڑنے والے لوگوں کو زندہ کرنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔ مقامی خبر رساں اداروں نے بتایا کہ ہجوم، جس کا تخمینہ تقریباً 1 لاکھ ہے، ہفتہ کی رات میگا سٹی کے ایک مرکزی ضلع ایٹاون میں جمع ہوا تھا جس میں سینکڑوں دکانیں اور پارٹی کی جگہیں ہیں۔

جنوبی کوریا میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے ایک مشہور نائٹ لائف علاقے میں ہیلووین کے موقعے پر بہت بڑا ہجوم اکھٹا ہوجانے کے باعث کچلے جانے سے 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر مرنے والوں کی تعداد 59 بتائی گئی تھی جو اب بڑھ کر 146 ہو گئی۔
حکام کے مطابق کچلے جانے سے کم از کم 150 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سیئول کے ایٹاون ضلعے کی ویڈیوز میں سڑکوں پر لاشیں، سی پی آر انجام دینے والے ہنگامی کارکن، اور امدادی کارکن دوسروں کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کچلے جانے کے واقعے کی وجہ کیا بنی۔جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔
پرہجوم علاقہ ’غیر محفوظ احساس‘
اس علاقے میں مبینہ طور پر 100,000 لوگوں نے وبا کے بعد گھروں سے باہر بغیر ماسک ہیلووین تقریب کا جشن منایا۔
شام کے اوائل میں پوسٹ کیے گئے سوشل میڈیا پیغامات میں کچھ لوگوں کو یہ تبصرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ایٹاون کے علاقے میں اتنا ہجوم تھا کہ انھیں یہ غیر محفوظ محسوس ہوا۔
بی بی سی کے ہوسو لی، جنھوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، کہا کہ انھوں نے ’بہت سے طبی عملے اور ایمبولینسیں کو ایک ایک کر کے لاشیں اٹھاتے ہوئے دیکھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہجوم میں ہزاروں افراد موجود تھے، اور اب وہاں نیلی چادروں میں ڈھکی کئی لاشیں تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’آج رات یہاں بہت سارے نوجوان جمع ہوئے ہیں۔ پارٹی اور کلب میں بہت سے لوگ خصوصی ’ور پر بنائے گئے ملبوسات پہنے ہوئے تھے اور بہت سارے لوگوں کو میں نے پریشان اور اداس دیکھا ہے اور وہاں افراتفری کے مناظر ہیں۔‘
تصاویر اور ویڈیوز میں ہنگامی مدد فراہم کرنے والے اہلکار اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے جو سڑکوں پر بے ہوش لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایک ویڈیو میں متعدد امدادی کارکن ایک تنگ سڑک پر لوگوں پر سی پی آر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری میں، امدادی کارکن لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بظاہر ہجوم کے بڑھنے کے بعد مرنے والوں کی لاشوں کا ڈھیر لگ رہا ہے۔
ایک مقامی صحافی نے کہا کہ یونگسان ڈسٹرکٹ میں ہر موبائل فون پر ہنگامی نشریات بھیجی گئی ہیں جس میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد گھروں کو لوٹ جائیں۔
[Breaking] Nightmare in #Itaewon. Current status is that over 50 people have collapsed and possible multiple fatalities due to overcrowding during the Halloween festivities. Stay tuned for more info. pic.twitter.com/NhvVqnHlkl
— allkpop (@allkpop) October 29, 2022


