سنوار کی موت : غزہ کے لوگوں نے ہیروانہ شہادت قرار دے دی

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی آخری وقت تک اسرائیلی قابض فوج سے لڑتے ہوئے جان دینے کو غزہ کے لوگوں نے ایک ہیروانہ شہادت اور قابل فخر طرز زندگی قرار دیا۔حماس سربراہ کے اس انداز سے سوئے مقتل جانے کے واقعے کے بعد غزہ کے لوگ یحییٰ سنوار کو بابائے فلسطین کے طور پر دیکھنے لگے ہیں جس نے زخمی حالت میں اسرائیلی ڈرون کو چھڑی سے مار گرانے کی کوشش کی۔ موت کا یہ انداز دوسروں کے لیے ہیروانہ انداز کا حامل ہے۔

غزہ کے شہریوں میں یحییٰ سنوار کی آخری وقت تک لڑتے ہوئے سامنے آنے والی ویڈیوز نے فلسطین کی اگلی کئی نسلوں کو ایک راستہ دکھا دیا ہے۔ تاہم کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ میں تباہی کی صورت میں بہت زیادہ قیمت دی جا چکی ہے۔یحییٰ سنوار کو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کا اصل معمار مانا جاتا ہے۔ کہ جس نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا اور ہواؤں کا رخ بدل دیا۔ اسرائیلی فوج نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک اس کی تلاش کی اور آخری وقت میں بھی اپنی انٹیلی جنس یا انٹیلی جنس سے متعلق دیگر بہت پھیلے ہوئے ذرائع سے اس تک نہیں پہنچی بلکہ بدھ کے روز کا اسرائیلی قابض فوج اور حماس سربراہ کا ٹاکرا ایک اتفاق سے زیادہ کچھ نہیں۔

واضح رہے آخری لمحات کی ایک ویڈیو میں حماس سربراہ کو زخمی حالت میں ایک تباہ شدہ گھر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں وہ ایک چھڑی کے ساتھ اسرائیلی ڈرون کو گرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا یہ انداز فلسطینیوں کے لیے متاثر کن اور فخر کا باعث رہے گا۔

حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایک ہیرو کی طرح مرا ہے ۔ حملہ کرتے ہوئے نہ کہ بھاگتے ہوئے۔ اپنے ہاتھ اپنی بندوق پر رکھتے ہوئے اور قابض فوج سے لڑتے ہوئے اگلے محاذوں پر اور براہ راست اسرائیلی فوج کا سامنا کرتے ہوئے۔

حماس نے یہ بیان یحییٰ سنوار کے تعزیت اور سوگ کے سلسلے میں جاری کیا ہے۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یحییٰ کی موت تحریک کو اور زیادہ مضبوط کرے گی اور اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ کسی کمزور سمجھوتے کی طرف نہیں لے جا سکتا۔

60 سالہ عادل رجب نے جو کہ غزہ میں رہنے والے دو بچوں کا باپ ہے کہا ‘یحییٰ سنوار نے مجاہدانہ وردی پہن رکھی تھی۔ وہ ایک بندوق اور گرینیڈز کے ساتھ لڑ رہا تھا اور جب اس کا خون بہہ رہا تھا اور سخت زخمی تھا تو بھی اس نے اپنی چھڑی کو دشمن کے خلاف ہیروانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے موت کو قبول کیا۔ اس نے بتایا کہ ہیرو کس طرح مرتے ہیں۔

30 سالہ علی غزہ میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے۔ انہوں نے پچھلی رات سے سنوار کے آخری لمحات کی ویڈیو 30 مرتبہ دیکھی ہے۔ ‘میں اس ویڈٰیو کو ہر روز دیکھنا اور اپنے بچوں کو دکھانا اپنی ڈیوٹی بنا لوں گا۔ حتیٰ کہ میں اپنے پوتے پوتیوں کو بھی یہ ویڈیو مستقبل میں دکھاتا رہوں گا۔ ‘

سنوار اپنی پچھلی کئی تقریروں میں کہہ چکا تھا کہ ‘کسی کار حادثے یا ہارٹ اٹیک سے مرنے کے بجائے میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مرنے کو پسند کروں گا۔’ ان کے یہ الفاظ فلسطینیوں نے بار بار آن لائن شیئر کیے ہیں۔سنوار کا یہ بھی کہنا تھا کوئی تحفہ اگر مجھے دشمن کی طرف سے مل سکتا ہے تو بہترین تحفہ قابض اسرائیل کی طرف سے شہادت کا تحفہ ہوگا۔ میں اس کی طرف سے شہادت کے تحفے کو پسند کروں گا۔

اب بعض فلسطینی حیران ہو رہے ہیں کہ کیا اسرائیل کو اس پر افسوس ہوگا کہ اس نے سنوار کی خواہش پوری کر دی اور اس کی پہلے سے ریکارڈ کی گئی گفتگوؤں کو فلسطینیوں کے ہاتھوں بار بار آن لائن شیر کرنے کا موقع دے دیا۔

سنوار کی جس طرح موت ہوئی اور جو ویڈیوز خود اسرائیلی فوج سامنے لائی اس سے اسرائیلی فوج کا وہ بیانیہ بھی غلط ہو گیا کہ وہ سرنگوں میں چھپا ہوا ہے اور اس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو ڈھال بنا کر اپنی جان بچانے کی کوشش کر رکھی ہے۔

چار بچوں کی ماں 42 سالہ بےگھر فلسطینی خاتون ریشا نے کہا اسرائیلی فوج کی اپنی پیش کردہ ویڈیوز کے مطابق نہ وہ کسی سرنگ میں تھا نہ یرغمالیوں کے جمگھٹے میں۔ وہ رفح میں اسرائیلی فوجیوں کو شکار کر رہا تھا۔ جہاں اسرائیلی فوج 7 مئی سے جنگ کر رہی ہے۔

ریشا نے مزید کہا ‘یہ ہوتے ہیں لیڈر جو خود بھی ہاتھوں میں بندوق لے کر لڑتے ہیں۔ میں نے سنوار کی ایک لیڈر کے طور پر حمایت کی ہے اور مجھے آج اس کی شہادت پر فخر ہے۔ ‘ماہ ستمبر میں سامنے لائے گئے ایک سروے کے مطابق غزہ کی اکثریت کو دکھایا گیا ہے وہ 7 اکتوبر کے حملوں کے فیصلے کو غلط سمجھتی ہے اور بڑی تعداد نے اس جنگ کے شروع کرنے پر سوال اٹھائے ہیں۔ جس کے نتیجے میں بہت زیادہ مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔

60 سالہ عادل رجب نے کہا ‘میں 7 اکتوبر کے حملے کی حمایت نہیں کرتا تھا کیونکہ فلسطینیوں کی یہ رائے بھی ہے کہ ہمیں اسرائیل کے خلاف کھلی جنگ میں نہیں جانا چاہیے تھا کہ ہم اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ لیکن آج جس طرح ایک ہیرو کے طور پر سنوار سامنے آیا ہے مجھے ایک فلسطینی ہونے پر فخر محسوس ہونے لگا ہے۔ ‘

غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی حماس کی نمایاں حمایت موجود ہے کہ وہ اسرائیلی قابض فوج کے خلاف لڑ رہی ہے۔ اس حمایت میں پچھلے ایک سال میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ حیران ہیں کہ کیا سنوار کی موت جنگ کے اختتام میں رکاوٹ بنے گی۔

مغربی کنارے کے شہر ہیبرون کے رہنے والے ہشمالون نے کہا ‘میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی قتل ہوتا ہے اس کے بعد اس کی جگہ لینے والا اس سے زیادہ سخت اور مشکل لیڈر کے طور پر سامنے آتا ہے۔’

رام اللہ کے رہاشی 54 سالہ مراد عمر نے کہا ‘جنگ جاری رہے گی اور یہ جلد ختم نہیں ہوگی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading