مملکت میں 1952 سے شراب پر پابندی عائد ہے، جو شہریوں اور غیر ملکیوں دونوں کو شراب نوشی سے روکتی ہے۔
ریاض: سعودی عرب نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مملکت 2026 تک شراب کی فروخت اور استعمال پر 73 سالہ پابندی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق، پیر 26 مئی کو ایک سعودی اہلکار نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے گہوارے کی حیثیت سے سعودی عرب مسلمانوں کے لیے شراب پر پابندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ تردید ایک ایسی رپورٹ کے وسیع پیمانے پر گردش کرنے کے بعد سامنے آئی ہے جو گزشتہ ہفتے ایک وائن بلاگ پر شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی حکام نیوم، سندالہ جزیرہ اور ریڈ سی پروجیکٹ جیسے سیاحتی علاقوں میں محدود شراب فروخت کی اجازت دینے کے لیے ایک لائسنسنگ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم، اس بلاگ میں کسی سرکاری ذریعے کا حوالہ نہیں دیا گیا تھا۔
قبل ازیں رپورٹس میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ مجوزہ ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت ملک بھر میں تقریباً 600 مقامات پر شراب کی محدود فروخت کی اجازت دی جائے گی، جن میں فائیو اسٹار ہوٹلز، پرتعیش ریزورٹس اور سفارتی زونز شامل ہیں۔ یہ اقدام ریاض ایکسپو 2030 اور فیفا ورلڈ کپ 2034 سے قبل کی وسیع تر اصلاحات کا حصہ تصور کیا جا رہا تھا۔
یہ ممکنہ پالیسی میں بڑی تبدیلی مملکت کی جانب سے اہم بین الاقوامی تقاریب کی میزبانی کی تیاریوں کا حصہ ہے، جن میں ریاض ایکسپو 2030 اور فیفا ورلڈ کپ 2034 شامل ہیں۔ سعودی عرب نے 1952 سے شراب پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جو شہریوں اور غیر ملکیوں دونوں کو شراب نوشی سے روکتی ہے۔ تاہم، جنوری 2024 سے کچھ تبدیلیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔