سعودی عرب : الیکٹرک فلائنگ ٹیکسیوں کا خواب تعبیر پانے کے قریب

سعودی عرب میں شہردر شہر سفر میں تیزی اور سرعت لانے کے لیے اڑنے والی ‘ ٹیکسیوں ‘ کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے پر اڑنے والی پچاس ٹیکسیاں فضائی بیڑے میں شامل کی جائیں گی۔ یہ ٹیکسیاں بجلی سے چلنے والی الیکٹرک ٹیکسیاں بھی کہا جاسکتا ہے اور ہواؤں میں اڑیں گی۔ گویا سعودی فضاؤں میں جھلمل کرتے اور دور سے ننھے منے اڑن کھٹولے سے لگنے والی ٹیکسیاں۔

ان جدید اور تیز رفتار فضائی ٹیکسیوں کے ذریعے شہریوں کو آسائش دینے کا فیصلہ مملکت کی قومی فضائی کمپنی ‘ سعودیہ ‘ نے کیا ہے۔ پہلے مرحلے پر 50 فضائی ٹیکسیوں کے بعد اگر عوامی ضرورت کے تحت ضروری سمجھا گیا تو مزید ٹیکسیوں کی کھیپ اس بیڑے میں شامل کر لی جائے گی۔

‘ سعودیہ ‘ کا اس سلسلے میں معاہدہ جرمن فضائی ٹیکسیاں بنانے والی کمپنی لیلیم این وی کے ساتھ ہوا ہے۔ تاکہ مملکت جدت، سرعت اور سہولت کے امتزاج کو اپنے شہریوں کے لیے پیش کر سکے۔ ‘ سعودیہ ‘ اور لیلیم کے درمیان جمعرات کے روز میونخ کے نزدیکی شہر میں دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ جگہ گاوٹنگ ہے ، جہاں لیلیم قائم ہے۔

اس سے قبل دونوں اداروں کے درمیان 2022 میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے ۔ لیلیم سعودیہ کو الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف لینڈنگ ائیر کرافٹ بنا کر دے گی۔

‘سعودیہ’ نے منصوبہ یہ بنایا ہے کہ ان چھوٹے طیاروں کو اڑتی ٹیکسیوں کے طور پر مختلف جگہوں کے لیے بروئے کار لائے گی۔یہ شہروں کے درمیان مسافروں کو سفر کی سہولت دیں گی۔ یہ جدہ سے مکہ کے لیے بھی اڑیں گی اور ریاض سے بحیرہ احمر تک بھی۔ بتدریج یہ سعودی عرب کے سیاحتی ویژن کے منصوبے کے ساتھ جزب ہو جائیں گی ۔

ایک ٹیکسی طیارہ ایک پائلٹ کے علاوہ چار سے چھ مسافروں کو لا اور لے جا سکے گا۔ ایک طیارے کی قیمت سات ملین ڈالر ہو گی اور اسے لیلیم جیٹ کہا جائے گا۔ مگر یہ چھوٹا سا جہاز ہو گا ہیلی کاپٹر نہیں۔ جرمن کمپنی امکانی طور پر 2026 میں یہ پہلا لیلیم جیٹ سعودی عرب کے حوالے کر دے گا۔

خیال رہے سعودی عرب اگلے دس برسوں کے دوران 800 ارب ڈالر کی رقم سیاحتی شعبے کی ترقی کے لیے لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کے نتیجے میں سالانہ 150 ملین سیاح مملکت میں آ سکیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading