سعودی صارفین اخراجات کو محدود، قیمتوں کے بارے میں زیادہ احتیاط کرنے لگے: رپورٹ

عالمی مشاورتی فرم اولیور وائے من کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق جیسا کہ سعودی عرب تیزی سے معاشی تبدیلی سے گذر رہا ہے تو پوری مملکت کے صارفین قیمتوں کے حوالے سے زیادہ احتیاط اور اپنی خرچ کرنے کی عادات میں سوچ سمجھ کر انتخاب کر رہے ہیں۔”سعودی صارفین کی خرچ کرنے کی عادات کے ارتقاء کی معلومات” کے عنوان سے رپورٹ 3,500 سعودی صارفین کے جوابات کی عکاسی کرتی ہے جو انہوں نے دسمبر 2024 میں ہونے والے سروے میں دیئے۔

کلیدی نتائج
جہاں 56 فیصد جواب دہندگان نے معیشت کے بارے میں امید کا اظہار کیا، وہیں ایک قابلِ ذکر 44 فیصد تعداد یا تو غیرجانبدار یا مایوسی کا شکار تھی۔ اس سے مملکت میں صارفین کے اعتماد کی زیادہ پیچیدہ تصویر ظاہر ہوتی ہے۔

نوجوان سعودی خاص طور پر محتاط نظر آتے ہیں۔ یہ بات برانڈز کے لیے ایک بڑھتی ہوئی ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ کس طرح نوجوان آبادی سے منسلک اور اپنے مالی حقائق سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔

غیر ضروری زمروں میں اخراجات میں کمی عام ہوتی جارہی ہے جن میں کھانے، تفریح، گھریلو آرائش اور الیکٹرانکس پر اخراجات میں کمی شامل ہے۔

اس کے ساتھ ہی زیادہ بامعنی خرچ کا رویہ بہتر ہو رہا ہے جس میں قیمتوں کا موازنہ، پروموشنز کی خواہش اور کم قیمت خوردہ فروشوں کو ترجیح دینا شامل ہے۔بڑھتی ہوئی کفایت شعاری کے باوجود خریداری کے تمام زمرے یکساں طور پر متأثر نہیں ہوتے ہیں۔

صرف 15 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ تازہ پیداوار کے معاملے میں وہ برانڈز تبدیل کریں گے۔ تقریباً 31 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ کھانے کے معاملے میں کم قیمت کو ترجیح دیں گے جبکہ 30 فیصد نے الیکٹرانکس اور تفریح کے لیے یہی جواب دیا ہے۔

خریداری کے رویوں کے حوالے سے الیکٹرانکس، فیشن اور تفریح جیسے زمروں میں آن لائن پلیٹ فارمز اب آگے ہیں خاص طور پر بین الاقوامی برانڈز کے لیے جنہیں 43 فیصد نے پسند کیا ہے۔اس نئی صورتِ حال میں ریٹیلرز کو بھی نئی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

مارکیٹ کی تیز مسابقت اور ابھرتے ہوئے کم قیمت متبادل بھی صارفین کی عادات کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ مثلاً تفریحی شعبے کے اخراجات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سستی خاندانی تفریح کے تصورات کا عروج اور سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں ہیں۔

تیز تر ترسیل اور وسیع تر انتخاب کی پیشکش کرنے والے آن لائن برانڈز روایتی کمپنیوں کو سروس اور قیمتوں کی بہتری کے لیے چیلنج کر رہے ہیں۔اس بدلتے ہوئے منظر نامے میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے رپورٹ میں ریٹیلرز کو معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں قیمتوں میں اختراعات اور موزوں پروموشنز شامل ہوں۔

یہ مصنوعی ذہانت، خودکار طریقوں اور کارکردگی سے آگہی کے ذریعے کام میں بہتری لانے کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہے۔دورِ جدید کے صارفین کی توقعات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ذرائع مثلاً ڈیجیٹل اور فزیکل پلیٹ فارمز کے درمیان ہموار مطابقت کو نمایاں کیا گیا۔

رپورٹ کے نتائج تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات میں موافقت پذیری اور گاہک پر مرکوز حکمتِ عملی کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading