زہریلے نیوز اینکر سریش چوہانکے کےخلاف ممبئی میں شکایت درج

جامعہ ملیہ کے خلاف زہر افشانی کرنے والے چینل کے خلاف کاروان امن و انصاف ممبئی کی کوشش

ممبئی:2۔ ستمبر ۔ سَنگھی اینکر سریش چوہانکے نے گزشتہ دنوں آر۔ایس۔ایس نظریات کے حامل چینل سدرشن نیوز کے ذریعے ملک کی مؤقر دانشگاه جامعہ ملیہ اسلامیہ کے خلاف زہر اگلتے ہوئے فساد پھیلانے کی کوشش کی تھی، جامعه ملیہ کو چونکہ اسلام اور مسلمانوں سے نسبت ہے اسلیے ہندوتوا غنڈوں نے کوشش کی ہیکہ اس کے خلاف ہندوستان میں نفرت انگیزی پھیلا دیں

اس لیے سریش نے ایک پروگرام جامعہ ملیہ کے یو پی ایس سی جہادی جیسے دنگائی عنوان سے چلانے کا اعلان کیا تھا جس پر ہنگامہ ہونے کےبعد ہائیکورٹ نے اسٹے بھی لگایاہے۔اس کے خلاف ملک بھر سے پولیس اسٹیشنوں میں کاروائیوں کے لیے شکایت دی جارہی ہے اسی تناظر میں کاروان امن و انصاف CPJ_India کی ممبئی یونٹ نے ساکی ناکہ پولیس اسٹیشن میں سریش چوہان اور اس کے خلاف ایف آئي آر کے لیے شکایت درج کرائی ہے سے پولیس عہدیدار نے موصول کرلیاہے امید ہیکہ اس کے خلاف کارروائی آگے بڑھائے گی۔

جامعہ ملیہ نے گزشتہ دنوں این آر۔سی اور ظالمانہ شہریت قانون کےخلاف جسطرح قائدانہ کردار ادا کیا وہ کسی سے مخفی نہیں یہی وجہ ہیکہ جامعہ کو ہندوتوا لابی کی طرف سے ٹارگٹ کیا جارہاہے اس موقع پر ضروری ہیکہ سبھی لوگ جامعہ سے حمیت کا اظہار بھی کریں اور قانونی کارروائی بھی کریں جس سطح پر بھی ممکن ہو، جیسے لقمان ندوی صاحب اور کاروان کے اعوان نے کیا اور بہت سے لوگ مختلف جگہوں پر یہ کارروائی کررہےہیں

ساکی ناکہ ممبئی میں یہ اہم ترین اقدام کاروان امن و انصاف کے ترجمان مولانا لقمان ندوی کی نمائندگی میں ممبئی CPJ کی ذمہ دار شخصیت حاجی عبدالحمید شیخ اور ممبران جنید خان ندوی اور ضیاء خان کے ذریعے انجام پایا، کاروان کے وفد نے شکایت درج کراکے جلدازجلد سریش کےخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ پولیس عہدیداروں سے کیا ہے، ان تمام حضرات کی اس جدوجہد کو رب کریم قبول فرمائے

اسوقت ہندوستان میں میڈیا ہاؤز کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف جس سطح کی نفرتیں پھیلائی جارہی ہیں اور ہندوتوا آئیڈیالوجی کے لیے جیسی فضا بنائی جارہی وہ لمحہء فکریہ ہے، جس سطح پر بھی ممکن ہو آگے بڑھ کر ان ظالموں کو روکنے کی اپنی اپنی کوششیں کرنا ملت پر فرض ہے، اگر وہ زندہ ضمیر ہیں مستقبل کے خطرات بھانپ رہےہیں اور بیدار مغز ہیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading